بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلاق معلق میں وقت ختم ہونے سے پہلےمحل شرط کا فوت ہونا
سوال
ایک شخص کی اپنی بیوی کے ساتھ کسی بات پر ناراضگی چل رہی تھی ،شوہر سعودی عربیہ میں ہے اس نے غصہ کی حالت میں ایک ویڈیو بنا کر اپنی بیوی کو بھیج دی ،جس میں انہوں نے پشتو زبان میں کچھ کہا جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ" اگر تو نے پاکستانی ٹائم کے مطابق صبح دس10 بجے تک (خاص) پیالے نہ توڑے تو ایک ،دو ،تین،تو مجھ پر طلاق ہے" ٌیہ جملہ تین دفعہ دہرایا ہے اس کے بعد بیوی نے پیالہ توڑنے سے انکار کیا تو شخص مذکورہ کی والدہ نے وقت مقرر آنے سے پہلے ان (خاص) پیالوں کو توؑڑ دیا ۔تو کیا مذکورہ بالا صورت میں وقت مقررہ گزرنے کے بعد طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جب کسی خاص وقت کے اندر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ طلاق کو معلق کیا گیا ہو تو وقت مقررہ کے ختم ہونے سے پہلے اگر اس کام پر قدرت ختم ہو جائے تو تعلیق طلاق باطل ہوجائے گی۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے ہوں کہ"اگر تو نے پاکستانی ٹائم کے مطابق صبح دس بجے تک)خاص(پیالے نہ توڑے تو ایک،دو،تین،تو مجھ پر طلاق ہے" اور اس کے بعد اس شخص کی والدہ نے دس بجے سے پہلے خود ہی ان پیالوں کو توڑ دیا ہو، تو ایسی صورت میں چونکہ دس بجے سے پہلے پہلے پیالوں کا توڑنا نا ممکن ہو گیا اس سے تعلیق طلاق ختم ہو گئی چنانچہ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
" ومن قال إن لم أشرب الماء الذي في هذا الكوز اليوم فامرأته طالق وليس في الكوز ماء لم يحنث فإن كان فيه ماء فأهريق قبل الليل لم يحنث وهذا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله وقال أبو يوسف يحنث في ذلك كله " يعني إذا مضى اليوم وعلى هذا الخلاف إذا كان اليمين بالله تعالى وأصله أن من شرط انعقاد اليمين وبقائه تصور البر عندهما خلافا لأبي يوسف رحمه الله لأن اليمين إنما تعقد للبر فلا بد من تصور البر ليمكن إيجابه وله أنه أمكن القول بانعقاده موجبا للبر على وجه يظهر في حق الخلف وهو الكفارة قلنا لا بد من تصور الأصل لينعقد في حق الخلف ولهذا لا ينعقد الغموس موجبا للكفارة " (الهدايه،كتاب الأيمان،باب اليمين في الأكل و الشرب،ج:2 ص:246)
رجل قال لامرأته إن لم أشرب الماء الذي في هذا الكوز اليوم فأنت طالق وليس فيه ماء أو كان فيه ماء فصب قبل غروب الشمس أو أطلق اليمين أي لم يقل اليوم وليس في الكوز ماء لم يحنث في هذه الصور كلها وإن كان فيه فصب حنث أي في المطلق وهو ما إذا لم يقل اليوم فحاصله أن هذه المسألة على وجهين إما أن يكون مؤقتة باليوم أو لم تكن مؤقتة به وكل وجه على وجهين إما أن يكون فيه ماء فصب أو لا يكون فيه ماء أما في المؤقت لا يحنث في الوجهين لأنه إن لم يكن فيه ماء يستحيل الشرب منه واليمين على المحال لا تنعقد وكذلك إن كان فيه ماء فصب قبل الليل لأن البر في المؤقت يجب في آخر الوقت وعندذلك يستحيل البر فيه فبطلت۔(تبيين الحقائق،كتاب الأيمان،باب اليمين في الأكل و الشرب اللبس والكلام،ج:3 ص:478)