بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مرض وفات میں وارث کا قرض معاف کرنا
سوال
میں نے اپنے والد صاحب سے چھ لاکھ روپے قرض لیے تھے اب حالت مرض وفات میں اس نے کہا ہے کہ مجھ سے جس نے جو بھی کھایا پیا ہے یا میرا جو حق کسی کے ذمے ہے وہ سب معاف ہے، تو پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں میرے چھ لاکھ کا قرض بھی معاف ہوا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مرض الموت میں مبتلا شخص اگر کسی کو قرض معاف کردے تو یہ وصیت شمار ہوتاہے اور شریعت میں کسی شخص کا اپنے وارث کیلئے وصیت کرنا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے والد کا مرض وفات میں تمام حقوق معاف کرنا شرعی اعتبار سے وصیت كے حكم میں ہے اور اپنے ورثا کیلئے وصیت کرنا شرعا معتبر نہیں،اس لیے سائل کے ذمےوالد کا قرض معاف نہیں ہوگا، لہذااس کے ذمے قرض واپس کرنا ضروری ہے۔
عن عمرو بن خارجة أن النبي صلى الله عليه و سلم خطبهم وهو على راحلته . وإن راحلته لتقصع بجرتها . وإن لغامها ليسيل بين كتفي قال :إن الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث . فلا يجوز لوارث وصية .(سنن ابن ماجہ ،باب لاوصیۃ لوارث،ج2ص905)
سئل) في مريضة مرض الموت أبرأت فيه زوجها من دين لها بذمته ومن مؤخر صداقها المعلوم لها عليه وماتت من مرضها المذكور عنه وعن ابن وبنت من غيره لم يجيزوا الإبراء المذكور فهل يكون الإبراء غير جائز؟
(الجواب) : نعم قال في التنوير إبراؤه مديونه وهو مديون غير جائز أي لا يجوز إن كان أجنبيا وإن كان وارثا فلا يجوز مطلقا سواء كان المريض مديونا أو لا للتهمة.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،كتاب الإقرار،باب إقرار المريض،ج:2،ص:54،دار المعرفة)
ولأنه لما مرض مرض الموت فقد تعلق حق الورثة بماله ولهذا لا يملك أن يتبرع عليه بشيء من الثلث مع ما أنه خالص ملكه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الإقرار، فصل أنواع المقر به،ج:7،ص:223 دار الكتب العلمية)