بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

موبائیل گیمز کھیلنے کا حکم


سوال

موبائیل گیم کھیلنا کیسا ہے؟

جواب

کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے ضابطہ یہ ہے کہ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو، مثلا: تشحیذ اذہان (ذہن کی تیزی)، جسمانی ورزش وغیرہ، اس کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، اور اس میں اتنا انہماک نہ ہو کہ جس کی وجہ سے فرائض یا واجبات میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔اگر کسی کھیل میں ان شرائط کا لحاظ نہ ہو تو وہ ناجائز ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر موبائیل گیم کھیلنے میں درج بالا شرائط کی رعایت نہ ہو ، یعنی اس میں مشغول ہوکر فرائض و واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلا: موسیقی، جاندار کی تصاویر وغیرہ، تو وہ ناجائز ہوگا، تاہم اگر اس میں مذکورہ شرائط کی رعایت رکھی جائے تو پھر اس کے کھیلنے کی گنجائش ہے۔

 

عن سليمان بن بريدة، عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال "من لعب بالنردشير، فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه". (صحيح مسلم، ج:4، ص:1770، رقم الحديث:2260، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

(و) كره تحريما (‌اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج)... وأباحه الشافعي وأبو يوسف في رواية، ونظمها شارح الوهبانية فقال: ولا باس بالشطرنج... وهذا إذا لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب، وإلا فحرام بالاجماع (و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام: كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة: ملاعبته أهله، وتأديبه لفرسه، ومناضلته بقوسه. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار و جامع البحار، ص:662، دار الكتب العلمية، بيروت)

وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها، مالم تشتمل على معصية أخرى، ومالم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه، والله سبحانه أعلم. (تكملة فتح الملهم، ج:4، ص: 432، مكتبة دارالعلوم، كراتشي)


فتویٰ نمبر : 5668/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور