بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

متعین منافع پر مضاربت کے لیے پیسے دینا


سوال

ایک کمپنی ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ مثلا ہمیں000 50 ہزار روپے دے دو ہم آپ کو  ماہانہ 3500منافع اور 3500 اصل قیمت واپس کریں گے 14 مہینے تک آپ کی اصل پیسے بھی واپس آ جائیں گے اور منافع بھی  کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق ایک شخص کے سرمائے اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار عقد مضاربت کہلاتا ہے۔ مضاربت میں نفع کی تقسیم مضارب اور رب المال کے مابین کسی خاص تناسب سے طےکرناضروری ہے،جب کہ حقیقی نقصان کا ذمہ دار صرف رب المال (سرمایہ کا مالک) ہوا کرتا ہے۔اگرمضاربت میں مضارب یارب المال (سرمایہ دینے والے) میں سےکسی ایک کے لیے خاص معین رقم مقرر کی جائے،مثلاً کہا جاےٴ کہ سرمایہ دینے والے کوماہانہ پينتس ہزار روپے ملے گا تواس شرط سے عقد مضاربت فاسد ہو جاتی ہے۔ اور یہ ایک سودی معاملہ بن جاتا ہے۔

صورت مسؤلہ میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں رب المال کے لئے ماہانہ ایک خاص مقدار میں رقم مقررکی گئی ہے۔اس لئے اس کمپنی کے ساتھ معاملات سے مکمل احتراز کیا جائے۔

 

قال: "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح...فلعله لا يربح إلا هذا القدر.( الهداية، كتاب المضاربة، ج3، ص263)

ويشترط ايضا في المضاربة أن يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد لأن الربح هو المعقود عليه و جهالته توجب فساد العقد.( فتح القدير، كتاب المضاربة، ج7، ص321، مكتبه حقانيه)


فتویٰ نمبر : 5649/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور