بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
کاسٹیوم(کارٹون لباس)کا بنانا اور بیچنا
سوال
آج کل ایک قسم کا لباس بنایا جاتا ہے جو کسی جاندار کے شکل میں ہوتا ہے ۔عموما موٹے کپڑے سے بنایا جاتا ہے انگریزی میں اس کو کاسٹیوم کہتے ہیں کیا اس قسم کا لباس بنانایا بیچنا جائز ہے،نیز کفار کے ہاتھ بیچنا کیسا ہے؟
جواب
ایسا کارٹون جس سے کسی جاندار کی واضح طور پر شناخت ہوتی ہواور اس کے ناک،کان ،اور منہ وغیرہ اعضاء بنائے گئے ہوں تووہ تصویر کے حکم میں ہے ، البتہ جو کارٹون کسی فرضی حیوان کی نمائندگی کرے یا اس میں جاندار کے چہرے کی واضح پہچان نہ ہو، بلکہ ناک ،کان اور منہ وغیرہ کےمحض علامتی نشانات ہوں یا چہرے کو مٹایا گیا ہوتو ایسی تصویر ممنوع تصویر کے حکم میں نہیں۔ صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ بالا اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرکاسٹیوم لباس سے واضح طور پر کسی جاندار کی شناخت ہوتی ہوتو وہ مورتی کے حکم میں داخل ہوگا،اس لیے ایسا لباس بنانا یا بیچنا جائز نہیں ،تاہم اگر واضح طور پر کسی جاندار کی پہچان نہ ہوتی ہوتو اس کے بنانے یا بیچنے کی گنجائش ہے ۔
عن بن مسعود رفعه إن أشد الناس عذابا يوم القيامة رجل قتل نبيا أو قتله نبي وإمام ضلالة وممثل من الممثلين وكذا...قوله أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله أي يشبهون ما يصنعونه بما يصنعه الله.(فتح البارى شرح صحيح البخاري،كتاب اللباس،قوله:باب عذاب المصورين يوم القيامت،ج:10،ص:384،383)
(قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلوة، باب مايفسد الصلوة ومايكره فيها،ج:1،ص:648)