بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شریعت کوگالی دینے کاحکم


سوال

ایک عورت اپنے خاوند کے کسی بات کے جواب میں بولی کہ  ”یہ کتی شریعت اپنے پاس رکھو“تو عورت کے ان کلمات سے کفر لازم آتا ہے یا نہیں اورکیا اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ 2-کیا یہ درست ہے کہ اب اگر یہ بیوی اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہے تو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا؟ 3-کیا یہ درست ہے کہ اگر میاں بیوی نکاح نہ کریں تو تین حیض گزرنے کے بعد یہ عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے اور اسکے لئے شوہرسے طلاق لینا ضروری نہیں؟

جواب

(1)واضح رہے کہ دین وشریعت کی  تو ہین   کرنا یا اس کو  گالی دینا کسی مسلمان کی شان نہیں اگر کوئی ایسی نازیبا حرکت کرے تو وہ شخص کافر ہوجاتا ہےاور اس پرتجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جب  عورت  نےشوہر کی بات کے جواب میں یہ جملہ کہاہو کہ ”یہ کتی شریعت اپنے پاس رکھو“تواس سے وہ ایمان سے نکل گئی  ہے لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہوکر سچے دل سے توبہ کرکے تجدیدایمان و تجدید نکاح کرے۔

(2) تجدیدِ نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کیا جائے۔

(3)اگر کوئی  شادی شدہ مرد ایسا کلمہٴ کفر ادا کرے جس کی وجہ سے وہ ایمان سے نکل جائے، تو اس کا نکاح بھی  ٹوٹ جائے گا اور بیوی اس سے بائنہ ہو جائے گی، لہذا وہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ليكن اگر عورت  نے اس طرح کی حرکت کی ،تو اس کا نکاح سابق شوہر سے بدستور قائم رہے گا لہذا دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی تاہم   شوہر کے لیے ، بیوی کے  تجدید ایمان  ونکاح سے پہلے اس کے ساتھ وطی یا دواعی وطی شرعاً جائز نہیں ہے۔

 

رجل قال للآخر ‌مسلمانم فقال له لعنت بروتووبر مسلماني تو يكفر كذا في الخلاصة (الفتاوى الهندية،مطلب في موجبات الكفر،ج:2،ص:257)

قال الملاعلي القاري رحمه الله:وفي التتمة من أهان الشريعة أو المسائل التي لابد منها كفر.(شرح الفقه الأكبر،ص:174)

وإذا قال الرجل لغيره: ‌حكم ‌الشرع ‌في هذه الحادثة كذا فقال ذلك الغير: من برسم كار ميكنم نه بشرع يكفر عند بعض المشايخ رحمهم الله تعالى وفي مجموع النوازل قال رجل لامرأته: ما تقولين أيش حكم الشرع فتجشأت جشاء عاليا فقالت: اينك شرع را فقد كفرت وبانت من زوجها كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام،ج:2،ص:272)

"ارتد أحد الزوجين عن الإسلام ‌وقعت ‌الفرقة ‌بغير ‌طلاق في الحال قبل الدخول وبعده."(الفتاوى الهندية، الباب العاشر في نكاح الكفار،ج:1،ص:339)

 (قوله: ‌وارتداد ‌أحدهما فسخ في الحال) يعني فلا يتوقف على مضي ثلاثة قروء في المدخول بها ولا على قضاء القاضي لأن وجود المنافي يوجبه كالمحرمية بخلاف الإسلام لأنه غير مناف للعصمة أطلقه فشمل ارتداد المرأة وهو ظاهر الرواية وبعض مشايخ بلخ ومشايخ سمرقند أفتوا بعدم الفرقة بردتها حسما لباب المعصية.(البحرالرائق،باب نكاح الكافر،ج:3،ص:230)

 وشرط حضور شاھدین حرین او حر وحرتین مکلفین سامعین قولھما معا علی الاصح۔( الدر المختارمع رد المحتار،كتاب النكاح،ج:3،ص:20)

 (لو) (ارتد) وعليه نفقة العدة قال ابن عابدين أي لو مدخولا بها إذ غيرها لا عدة عليها وأفاد ‌وجوب ‌العدة سواء ارتد أو ارتدت بالحيض أو بالأشهر لو صغيرة أو آيسة أو بوضع الحمل كما في البحر .(الدرالمختار مع رد المحتار،باب نكاح الكافر،ج:3،ص:194)

وأفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا وتيسيرا لا سيما التي تقع في المكفر ثم تنكر، قال في النهر: والإفتاء بهذا أولى من الإفتاء بما في النوادر.(الدرالمختار مع رد المحتار،باب نكاح الكافر،ج:3،ص:194)

قال في الفتح: ‌ويقع ‌طلاق ‌زوج ‌المرتدة عليها ما دامت في العدة لأن الحرمة بالردة غير متأبدة فإنها ترتفع بالإسلام فيقع طلاقه عليها في العدة مستتبعا.(ردالمحتار على الدرالمختار،باب نكاح الكافر،ض؛3،ص:193)

يكون كفرًا بالاتفاق يوجب إحباط العمل كما في المرتد وتلزم إعادة الحج إن كان قد حجّ ويكون وطؤه حينئذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد الزنا، ثم إن أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قاله؛ لأنه بالإتيان بكلمة الشهادة لايرتفع الكفر، وما كان في كونه كفرًا اختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطا وما كان خطأ من الألفاظ لا يوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، هذا إذا تكلم الزوج فإن تكلمت الزوجة ففيه اختلاف في إفساد النكاح وعامة علماء بخارى على إفساده لكن يجبر على النكاح ولو بدينار وهذا بغير الطلاق.(مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر،باب المرتد،ج:1،ص:688)


فتویٰ نمبر : 6809/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور