بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
معاہدہ کی خلاف ورزی کرنا
سوال
سٹیل مل کے ملازمین نےمل کے انتظامیہ والوں سے گھرکےکرایہ ،پانی ،بجلی اور گیس بل وغیرہ کے متعلق ریلیف اور سہولت کا مطالبہ کیاجس کی منظوری انتظامیہ والوں نے دی ،اور ملازمیین کو ایک رہایشی پلاٹ دیا جس میں سکول ،کالج وغیرہ سب کچھ ہےاس پلاٹ میں اگر مستقل ملازم (permanent)رہنا چاہے تو اس کے ساتھ الگ معاہدہ ہوتا ہےاور عارضی ملازم کے ساتھ الگ معاہدہ ہوتا ہے اور دوسرے اداروں کے لوگ اگر اس پلاٹ میں رہنا چاہیں ان کے ساتھ الگ معاہدہ ہوتا ہے یعنی مستقل ملازمین کے ساتھ گھرکےکرایہ ،پانی ،بجلی ،گیس بل، اور بچوں کے سکو ل فیس وغیرہ میں مثلا آدھی یا اس سے زیادہ رعایت کی جاتی ہےعارضی ملازمین کے ساتھ اس سے ذرا کم اور دوسرے اداروں والوں سے پورا کرایہ وغیرہ لیا جاتا ہے اب چند ماتحت افسران یہ کام کرتے ہیں کہ ملازمین کو جبری طور پر گھروں سے نکالتے ہیں اور وہ جو نئے بچے وہ سکول میں داخل کرتے ہیں اس سےمکمل فیس لیتے ہیں حالانکہ ان ملازمین کے ساتھ معاہدہ ہواہے کہ ان کی رہائش یہاں ہوگی اور ان کے بچوں سے فیس کم لی جائی گی تو کیا ماتحت افسران کا یہ عمل شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ فریقین کے مابین جو معاہدہ ہو جائے اس کی پاسداری کرنا ضروری ہے نیز کسی صاحب حق سے اس کا حق روکنا کسی کے لیے جائز نہیں۔
صورت مسئولہ میں مل کے انتظامیہ اور ملازمین کے مابین گھرکےکرایہ ،پانی ،بجلی اور گیس بل وغیرہ کے ریلیف و سہولت کےمتعلق جومعاہدہ ہوا ہے اس کی پاسداری انتظامیہ اور ذمہ داران پر ضروری ہے۔کسی افسرکے لیے شرعاًیہ جائز نہیں کہ وہ کسی ملازم سے اس کا حق روک لے یا اس کے ذمہ واجب الاداء رقم سے زیادہ وصول کرے۔
قال الله تعالیٰ:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾(المائدۃ:11) روي عن ابن عباس ومجاهد ومطرف والربيع والضحاك والسدي وابن جريج والثوري قالوا: "العقود في هذا الموضع أراد بها العهود"(إحكام القرآن للجصاص،ج:2،ص:221)
وقال تعالیٰ : ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ قال الثعلبي: بالباطل أي: من غير الوجه الذي أباحه الله تعالى.(تفسير الثعلبي،سورة البقرة،ج:3،ص:83)
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي."(شرح المجلة،مادة:97،ج:1،ص:64)