بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وارث کا اپنے مورث سے اس کی زندگی میں حصے کا مطالبہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص زندہ ہو ، اس کے بچے وغیرہ نہ ہوں اور اس سے دوسرے بھائی اس کے ذاتی مال میں حصے کا مطالبہ کرتے ہوں، تو کیا  ایسا مطالبہ شرعا جائز ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے کسی شخص کی زندگی میں اس کی ملکیت میں موجود مال وراثت نہیں کہلاتا۔ وراثت کے احکام مالک کی موت کے بعد جاری ہوتے ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جو شخص زندہ ہو، تو اس کے بھائیوں کااس کے مال میں حصے کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں۔

 

والمراد من التركة ‌ما ‌تركه ‌الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، ج:6، ص:229، المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)

وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه. (رد المحتار على الدر المختار، ج:6، ص:758، دار الفكر، بيروت)

والتصرف ‌في ‌ملك ‌الغير من غير إذنه محظور في الأصل. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج:7، ص:22، دار الكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 3518/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور