بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صبحان اور صحبان نا م رکھنا


سوال

میرے دو جڑواں بیٹے ہوئے ہیں کیا میں ایک کا نام محمد صبحان اور دوسرے کا نام محمد صحبان رکھ سکتا ہوں ؟ اگر ہاں تو دونوں ناموں کے معنی مطلب اور تفصیل بتا دیں۔

جواب

 وہ نام جسے نبی کریمﷺ ، صحابہ کرامؓ  یا قرون ماضیہ میں علماءو صلحاء نے استعمال کیا ہو یا  وہ نام جو اسلامی  معاشرہ میں رائج ہواور اس کا معنی غلط نہ ہو تو ایسا نام رکھنا جائز ہے۔

صحبان (صاد کے ضمہ اور حاء کے سکون کے ساتھ)  یہ جمع ہے  صاحب کی، جس  کا معنی ہے ساتھی  ۔ اور صبحان  (صاد کےفتحہ اور باءکے سکون کے ساتھ) یہ عربی کا لفظ ہے ا سکا معنی ہے  سیراب ہوکرکوئی مشروب  پینا ، معنی کے لحاظ سے دونوں نام رکھنے کی گنجائش ہے تاہم انبیاءکرام یا صحابہ کے نام رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

 

صحب،صحبة وصحابةوصاحب:لازمه ورافقه وعاشره...الصاحب ج صحب وأصحاب وصحبة وصحبان.(لسان العرب، ج:7، ص:416)

والصبحان: الذي قد اصطبح فروي.(تاج العروس،ج:6، ص:533)


فتویٰ نمبر : 5648/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور