بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو کہنا کہ "جاؤ اپنے میکے میں مجھے تم سے کوئی غرض نہیں "سے طلاق کاحکم


سوال

کوئی شخص غصے کی حالت میں کوئی اگر اپنی بیوی کو کہہ دیں کہ" جاؤ اپنے میکے میں مجھے تم سےکوئی  غرض نہیں اور جو چاہو وہی کرلو"کیا اس سے طلاق واقع ہوتاہے کہ نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ"میکے جاؤ"تو اس میں طلاق اورعدم طلاق دونوں کا احتمال ہے اس لیےمراد اور مطلب کی تعیین میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر طلاق کی نیت تھی تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور اگر طلاق کی نیت نہیں تھی توکوئی طلاق     واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں اگر  "جاؤاپنے میکے میں مجھے تم سے کوئی غرض نہیں"کے الفاظ کہنے سے طلاق کی نیت ہو تو اس سے  ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور اگر ان الفاظ سےطلاق کی نیت نہ ہو   تو پھر کچھ بھی واقع نہیں ہوگا ۔

 

الكنايات (لاتلطلق بها)قضاء(إلابنيةأو دلالةالحال).(ردالحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:4،ص:528)

وإن كان الطلاق بائنا دون الثلاث ،فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.(الهداية،كتاب الطلاق،باب الرجعة،فصل فيما تحل به المطلقة،ج:2،ص:409)

و قوله الحقي بأهلك يحتمل الطلاق لأن المرأة تلحق بأهلها إذا صارت مطلقة ويحتمل الطرد والإبعادعن نفسه مع بقاء النكاح وإذا احتملت هذه الألفاظ الطلاق وغير الطلاق فقد استتر المراد منها عند السامع فافتقرت إلى النية لتعيين المراد.(بدائع ا4لصنائع،فصل في الكناية في الطلاق،ج:4،ص:234)


فتویٰ نمبر : 6815/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور