بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اسقاط حمل کی ایک صورت کا حکم
سوال
اگر کسی شخص نے تین طلاق کے بعد بھی عورت کو اپنے ساتھ رکھا اور عدت گزرنے کے بعد جماع کا ارتکاب کیاجس سے حمل ٹھہر گیااور اب حمل دو ماہ کا ہو چکا ہے جب کہ یہ دونوں حلالہ کرنے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مزید حرام میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں تو کیا جلدحلالہ کرنے کے لیے ان کا اسقاط حمل کرانا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب حمل ٹھہر جائےتو اس کے بعد اس کو بغیر کسی عذر کے ساقط کرنا شرعا جائز نہیں،چاہے وہ حمل زنا سے ہی کیوں نہ ہو ،اس لیے کہ حمل اگر چہ زنا سے ہو پھر بھی وہ محترم ہے کیونکہ اس کا خود کوئی قصور نہیں۔
صورت مسؤلہ ميں اسقاط حمل جائز نہیں ۔کیونکہ زناسےحمل کے ہوتے ہوئےبھی نکاح جائز ہے البتہ وضع حمل تک جماع جائز نہیں، لیکن اگر زوج ثانی حلالہ کے لیے جماع کرےتو جماع اگرچہ ناجائز ہےلیکن نکاح صحیح موجود ہونے کی وجہ سےدوسرے شوہر کے جماع کو زنا نہیں کہا جائے گااور دوسرے شوہر کے جماع سےیہ زوج اول کے لیے حلال ہو جائے گی ۔
وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما۔(ردالمحتار على الدرالمختار،ج:6،ص:374)
(والإيلاج في محل البكارة يحلها والموت عنها لا) ۔۔۔يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين بلا حائل يمنع الحرارة، وكونه عن قوة نفسه فلا يحلها من لا يقدر عليه إلا بمساعدة اليدإلا إذا انتعش وعمل ولو في حيض ونفاس وإحرام؛ وإن كان حراما؛ وإن لم ينزل لأن الشرط الذوق لا الشبع قلت: وفي المجتبى: الصواب حلها بدخول الحشفة مطلقا۔(الدر المختار مع ردا المحتار،ج:3،ص:414)
"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لايجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز."(الفتاوىٰ الھندیۃ،ج:5،ص:356)
يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.(الفتاوى الهندية،ج:5،ص:356)
والزنا لا يوجب العدة ولا يمنع من أن تتزوج۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:475)