بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بارات والوں سے پیسے لینا


سوال

بعض علاقوں میں یہ ایک رواج ہے کہ شادی کے دن لڑکی  کے گھر والے دلہن کو کسی کمرے میں بند کرکے تالا لگاتے ہیں اور بارات والوں کو دلہن اس وقت تک  لےجانے نہیں  دیتے جب تک ان کی منہ مانگی رقم بطور مٹھائی  ان کو نہ ملے۔ بسا اوقات وہ  بہت زیادہ رقم مانگتے ہیں،جو لڑکے والوں کو مجبوراً دیناپڑتا ہے ۔ ایسا رسم  شرعاً کیسا ہے؟ 

جواب

کسی سے  اس کی طیب نفس کے بغیر کوئی رقم یا کوئی   چیز لینا   غصب شمار ہوتا ہے، چنانچہ    ایسی چیز کا استعمال جائز نہیں بلکہ واپس کرنا ضروری ہے۔ نیز دینے والے کو بھی اس چیز کی واپسی کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق ایسا رسم  و رواج  شرعاً جائز نہیں جس میں  کسی سے اس کا  مال اس کی دلی خوشی کے بغیر لیا جائے  یعنی کسی معاشرتی یا سماجی دباؤ  یا  رواج کی وجہ سے  مجبور ہوکر اپنا مال خرچ کرے،البتہ اگر کوئی شخص خوشی کے موقع پر خود اپنی مرضی واختیار   سے بغیر کسی دباؤو مجبوری کے   کچھ دینا چاہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

''فمن أخذه " أي المال أخذا ملتبسا " بسخاوة نفس " أي من الأخذ يعني بلا سؤال ولا إشراف ولا طمع أو بسخاوة نفس وانشراح صدر من المعطي… ومن أخذه بإشراف نفس" يحتمل الوجهين أي بطمع أو حرص أو تطلع " لم يبارك له فيه " قيل: الإشراف النظر إلى شيء يرى بكراهيته من غير طيب نفس بالإعطاء، وقال ابن الملك: أي نفس المعطي واختياره من غير تعريض من السائل بحيث لو لم يعطه لتركه ولم يسأله…". (مرقاة المفاتيح،كتاب الزكوة،باب من لا تحل له المسألة ومن تحل له،ج:4،ص:1310الرقم:1842)
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي".(رد المحتار،كتاب الحدود،باب التعزيز،ج:4،ص:61)

‌"ولو ‌أخذ ‌أهل ‌المرأة ‌شيئا ‌عند ‌التسليم ‌فللزوج ‌أن ‌يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق".(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب السابع فى المهر،ج:1،ص:327)


فتویٰ نمبر : 5634/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور