بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
عبدالنبی،عبد المحمد اور اللہ محمد نام رکھنا
سوال
ہمارے ہاں بہت سے ایسے نام ہوتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے جیسے "عبد المحمد" یا "عبدالنبی "اسی طرح "اللہ محمد" نام رکھنا۔ تو کیا ایسے ناموں کو رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے اچھا اور بامعنی نام ر کھنااولادکا حق ہے ۔جو نام اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہو انبیاءکرام ،صحابہ یااولیاء کا نام ہو یا معنی کے اعتبار سے صحیح ہو تو وہ رکھناجا ئزہے۔ جب کہ ایسے نام رکھنےسے اجتناب کرنا چاہیئے جس سے شرک کا شائبہ پیدا ہوتا ہو یاجس سے لوگوں کا ذہن بدفالی کی طرف منتقل ہوتا ہو یا ایسا نام جس کا معنی اور مفہوم اچھا نہ ہو۔
صورت مسؤلہ کے مطابق عبد المحمد اور عبدالنبی نام میں چونکہ عبد کی اضافت غیر اللہ کی طرف کی گئی ہےجس میں معنی کے لحاظ سے شرک کا شائبہ پایا جاتا ہےاس لیےیہ دونوں نام رکھنا جائز نہیں،اسی طرح" اللہ محمد "نام رکھنا بھی ٹھیک نہیں۔
وجاز التسمية بعليّ ورشيد من الأسماء المشتركة، ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى...التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسوله ﷺ ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل ...ولا يسميه حكيما ولا أبا الحكم،ولا أباعيسى، ولاعبد فلان ـ ـ ـ اقول ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان منع التسمية بعبد النبي... كان رسول اللهﷺ يغير الاسم القبيح إلى الحسن،جآه رجل يسمى أصرم، فسماه زرعة.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الحظروالإباحة،باب الاستبراءوغيره،ج:9،ص598:،599)