بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غیر مسلموں کا ڈیٹا یا بینک اکاؤنٹ ہیک کرنا


سوال

ڈیٹاہیکنگ (Data Hacking)، اور بینک اکاؤنٹ ہیکنگ (Bank Account Hacking)کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جب کہ وہ ڈیٹا یا بینک اکاؤنٹ ایسا ہو جو غیر مسلموں کی ملکیت میں ہو اوراور اس کے پیسے مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتے ہو۔ ہیکنگ کے ذریعے اسے ختم کرنا یا خود کو منتقل کرکے مسلمانوں کے فائدے میں استعمال کرنا کیسا ہے؟واضح رہے کہ یہ نقصان کسی اسلامی ملک کا نہیں ہوتا بلکہ عام مسلمانوں کا ہوتا ہے۔

جواب

غیر مسلموں کا مال امن و امان اور عام حالات میں ان کی اجازت کے بغیر ان سے لینا جائز نہیں، ہاں اگر ان سے برسرپیکار ہونے کے نتیجے میں غنیمت کے طور پر کوئی مال ہاتھ آئے،تو وہ شرعا حلال ہے۔اسی طرح کسی کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی (Privacy) میں اس کی اجازت کے بغیر دخل اندازی کرنابھی جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی کا ڈیٹا ہیک کرنا اس کی اجازت کے بغیر اس کی پرائیویسی میں دخل اندازی کے زمرے میں آتا ہے، لہذا ایسا کرنا جائز نہیں۔ نیز سوال میں بیان کردہ صورتحال کے مطابق غیر مسلموں کا بینک اکاؤنٹ ہیک کرکے اس میں موجود رقم تلف کرنا یا خود کو منتقل کرنا بھی جائز نہیں، بالخصوص جب اس سے براہ راست کسی اسلامی ملک یا مسلمانوں کی سالمیت کو ضرر بھی نہ ہو۔

 

عن المسور بن مخرمة ومروان، يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، قالا:خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية، حتى كانوا ببعض الطريق، قال النبي صلى الله عليه وسلم: (إن خالد بن الوليد بالغميم، في خيل لقريش طليعة، فخذوا ذات اليمين). فوالله ما شعر بهم خالد حتى إذا هم بقترة الجيش، فانطلق يركض نذيرا لقريش... وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية فقتلهم، وأخذ أموالهم، ثم جاء فأسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (‌أما ‌الإسلام ‌فأقبل، وأما المال فلست منه في شيء)... الحديث إلى آخره. (صحيح البخاري، ج:1، ص:377  تا 381، رقم الحديث: 2747، المكتبة المظهرية ، كراتشي)

فقال رسول الله، صلى الله عليه وسلم: أما المال فلست منه في شيء، يريد: في حل، لأنه علم أن أصله غصب، وأموال المشركين، وإن كانت مغنومة عند القهر، فلا يحل أخذها عند الأمن. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج:14، ص:11، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

وإذا دخل المسلم دار الحرب تاجرا فلا يحل له أن يتعرض لشيء من أموالهم ولا من دمائهم، فإن غدر بهم أعني التاجر فأخذ شيئا وخرج به ملكه ملكا محظورا. (الفتاوى التاتارخانية، ج:7، ص:147، مكتبه رشيديه، كوئٹه)


فتویٰ نمبر : 5638/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور