بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دینی ادارے کے لیے کمیشن پر زکوٰۃ وصول کرنا


سوال

ایک دینی ادارہ ہے جہاں مستحق طلبا پڑھتے ہیں اگر وہ دینی ادارہ اپنے متعلقین (سفرا) سے کہہ دے کہ جو بھی ادارے کے لیے زکوٰۃ لے کر آئے تو اس کو وصول شدہ زکوٰ ۃ کا پانچ فیصد دیا جائے گا ،اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟اگر جائز نہیں تو اس کی متبادل صورت کیا ہوسکتی ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مدارس کے لیے چندہ کرنے والے یا زکوٰۃ وصول کرنے والے (سفرا) عا ملین میں داخل  نہیں ہیں کیونکہ  یہ حضرات اسلامی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے کی لیے مامور نہیں ہیں اس لیے ان سفرا کی حیثیت  اجیر کی ہوتی ہے  اور عقد اجارہ میں ضروری ہے کہ اجرت اور منفعت دونوں معلوم ہوں اگر اجرت اور منفعت یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی مجہول ہو تو اجارہ فاسد ہوجاتا ہے ،نیزیہ بھی ضروری ہے کہ  اجرت  ایسی چیز مقرر کی جائے جو اجیر کے عمل سے حاصل نہ ہو ۔

صور ت مسؤلہ کے مطابق زکوٰۃ وصول کرنے والے متعلقین ِ ادارہ (سفرا)کے لیے وصول شدہ زکوٰۃ میں سے حصہ مقرر کرنا درج ذیل وجوہات کی  بنا  پر جائز نہیں :

1-پہلی وجہ یہ ہے کہ اس میں سفیر کی اجرت مجہول  ہے  کیونکہ بعض اوقات زیادہ زکوٰۃ وصول کرنے کی صورت میں اس کی اجرت  زیادہ ہوگی ،جبکہ کم زکوٰۃ لینے کی صورت میں اس کی اجرت بھی کم ہوگی ۔

2-دوسری وجہ یہ ہے کہ اس عقد میں منفعت بھی مجہول ہے کیونکہ اس  سفیر کا کام لوگوں کو زکوٰۃ دینے کی ترغیب دينا ہے اور اس صورت میں یہ واضح نہیں کہ وہ اس کام میں کتنا وقت خرچ کرے گا ۔

3-تیسری وجہ  یہ  ہےکہ اس معاملہ میں سفیر کی اجرت اس کی وصول کردہ زکوٰۃ سے مقررکی جارہی ہے  ،جو کہ اس کے اپنے عمل سے حاصل ہوئی ہے،جو کہ شرعاً جائز نہیں ۔

4۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں مستحق  زکوٰۃکو مالک بنائے  بغیرزکوٰۃ کی رقم سےاجرت مقرر کی جارہی ہے ،جس میں تملیک کے فقدان کی وجہ سے  نہ تو  زکوٰۃ ادا ہوگی ،اور نہ ہی اجرت دینا جا ئز ہوگا۔

 لہذا کسی دینی ادارے کے سفیر کی اجرت زکوٰ ۃ کی رقم سے بطور  فیصد  مقرر کرناجائز نہیں ،اس کی متبادل جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ادارہ کے مستحقین طلبا سے  زکوٰۃ کی تملیک کرانے کے بعد ان سفرا کے لیےمعین تنخواہ مقرر کرے۔

 

"(ومنها العامل)وهومن نصبه الإمام لاستيفاء الصدقات، والعشور،كذا في الكافي"(كتاب الزكوٰة، الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:188)

”وشرطھا:کون الأجرۃ والمنفعة معلومتین؛ لأنٓ جهالتھما تفضي إلی المنازعة "۔(الدٓر المختار کتاب الإجارۃ ج:9،ص:7)

”(ولو دفع غزلا لینسجه له بنصفه ) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً لیحمل طعامه ببعضه أو ثوراً لیطحن برّہ ببعض دقیقه ) فسدت في الکل ؛ لأنّه استأجرہ بجزءٍ من عمله ، والأصل فی ذالک نھیهﷺ عن قفیز الطحان ۔(الدّرالمختارشرح تنوير الأبصار، كتاب الإجارة،باب الإجارةالفاسدة،ج:9،ص:78،79)

"ويشترط أنّ يكون الصرف تمليكا، لا إباحة كما مرّ(لا)  يصرف (إلي بناء)نحو (مسجد)...أن الحيلة   أن يّتصدق على الفقير،ثم يأمره بفعل هذه الأشياء"(ردؔالمحتار على الدؔر المختار ،باب المصرف ،ج:2،ص:344)


فتویٰ نمبر : 5675/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور