بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

درختوں میں عشرکا حکم


سوال

اگرایک شخص کے زمین میں قدرتی طور پرغز(جھاؤ)کےدرخت اگے ہوئے ہوں تو اس کے  فروخت کرنے پرعشرواجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر كسی زمین میں قدرتی طور پر اگنے والے درخت موجود ہو ں اور ان کو گھریلو ضروریات ایندھن وغیرہ  میں استعمال کیا جاتا ہو اور اس غرض سے ان کی حفاظت بھی  کی جاتی ہو تو ان درختوں میں عشر واجب نہیں  ہو گا،تاہم اگر خود رو درختوں کی آبیاری ،حفاظت اور ان کی دیکھ بھال سے مقصود فروخت کرکے کمائی حاصل کرنا ہو  تو اس  صورت میں ان خود رو درختوں میں بھی عشر واجب ہوگا۔

 

فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب ۔۔۔حتى لو استنمی بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر كذا في محيط السرخسي.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:186)


فتویٰ نمبر : 9838/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور