بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مدرسہ میں کام کرنے کا عوض لینا
سوال
بندہ نے ایک مدرسہ کے لئے تقریباً 43 مرلے زمین خریدی اور پانچ سال تک بیسمنٹ،آٹھ کمرے اور چاردیواری عوامی چندے سے تعمیر کیا۔مزدوروں کے لئے کھانا تیار کرنا اور اس کی تمام تر خدمات اب تک بندے کے اہلیہ اور بچوں نے کیا۔اب حالات کچھ مشکل ہوگئے تو کیا بندہ اپنے لئےیا جو بیٹا وغیرہ مدرسے میں خدمت کرتا ہو،وہ کچھ مناسب تنخواہ چندے سے لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی مسجد ومدرسہ کی خدمت میں مصروف ہواور عوض لینا چاہتا ہوتو مدرسہ کے انتظامیہ یا شوری کی اجازت سےاگرمتعین کام یا مدت کے عوض اجرت مقرر کیا جائے توپھر معاہدہ کے مطابق خدمات انجام دے کر اس کےلئےاجرت لینا جائز ہوگا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق کوئی شخص اگرمدرسے کی خدمت میں مصروف ہواور اس کے لئے ان خدمات کے عوض تنخواہ طے کی جائے تو اس کے لیے اس کا لینا جائز ہے ۔
"وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد يكنسه ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها فإن كان أكثر فالإجارة له وعليه الدفع من مال نفسه ويضمن لو دفع من مال الوقف".(الفتاوى الهندية كتاب الوقف،الباب الحادي عشرفي المسجدوما يتعلق به،ج:2،ص:461،ط:رشیدیة)
وفیہ ایضاً: "سئل الفقيه أبو القاسم عن قيم مسجد جعله القاضي قيمًا على غلاتها و جعل له شيئًا معلومًا يأخذه كل سنة حل له الأخذ إن كان مقدار أجر مثله، كذا في المحيط".(كتاب الوقف،الباب الحادي عشرفي المسجدوما يتعلق به،ج:2،ص:461،ط:رشيدية)