بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مدرسے کے ٹیوب ویل کاخرچہ چندے سے دینا
سوال
میں نےمدرسے کے لئےاپنی زمین وقف کی ا ور اس پر ایک صاحب نے وقف کی نیت سے ٹیوب ویل کھودا اور کہا کہ آپ کے محلے میں جتنے غریب لوگ ہیں،ان کو پانی دوگے یعنی مشترکہ طور پرمدرسہ اور محلے کے غریب لوگوں کے لئے کھود لیالیکن اس کے بعد اس نے پایہ تکمیل تک کام نہیں پہنچایا بلکہ بیچ میں پیچھے ہٹ گیا،اس لئے ٹیوب ویل کا پائپ اور واٹر پمپ چندے کی رقم سے خرید لیا۔پھر بندے نےدو عدد پانی کی ٹینکیاں مدرسے کے لئے مختص کردئیےاور ایک پلاسٹک کی ٹینکی محلے والوں اور اپنے گھر کے لئے مقرر کیا۔اب پوچھنا یہ ہے کہ جب پانی کا موٹر جل جائےیا جرنیٹر خراب ہوجائےتو اہل محلہ غربت کی وجہ سے کچھ نہیں دیتے،اس لئے اس کو چندے کی رقم سے مرمت کرتے ہیں اور میرے لئے خرچہ دیئے بغیر اس پانی کا استعمال جائز ہےیا نہیں؟
جواب
جب واقف کوئی خاص نیت یا مصرف کی تعیین کرے تو اسی کے مطابق موقوفہ چیز کو صرف کرنا ضروری ہے ۔اسی طرح چندہ خرچ کرنے میں چندہ دینے والوں کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے لہذا کسی مدرسہ میں چندہ دینے والے اگر کسی خاص مصرف کے لیے چندہ دے دیں تو اس کو اسی مد میں خرچ کرنا ضروری ہے۔نیز وقف کے لئے چیز کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے مدرسے کی موقوفہ زمین پر ٹیوب ویل لگایا ہو تو یہ مدرسےہی کا ٹیوب ویل ہوگا،اس پرخرچ کرنے والے کی نیت کا اعتبار نہ ہوگالہذا مدرسے کا انتظامیہ مدرسے کے مفادات کو مدِنظر رکھ کراس کا پانی استعمال کرنے کا پابند ہوگااور مدرسے کی چندے کی رقم اس پر خرچ کی جاسکتی ہے۔
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة".(رد المحتار على الدر الختار،كتاب الوقف، مطلب في شرط الواقف...،ج:4،ص:433)
ولايحمل الرجل سراج المسجد إلى بيته.(الفتاوى الهنديه،كتاب الصلوة،الباب السابع فيما يفسد الصلوة،ض:1،ص:110)
(وشرطه شرط سائر التبرعات) ...(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف(قوله: منجزا) مقابله المعلق والمضاف.(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الوقف، ج:4، ص:340)
الثامنة في وقف المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحةالمسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به۔(البحرالرائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:233)
وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة".(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني في الوقف على المسجد، ج:2، ص:463،)