بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لڑکے والوں کاجہیز کا مطالبہ کرنا


سوال

 لڑکے والوں کا لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرنا شرعا کیسا ہے؟

جواب

والدین جب اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت ایسی چیزوں کا تحفہ پیش کردیں جو اس کی آئندہ زندگی کے لیے کارآمد ہوں ،خواہ وہ سامان کی شکل میں ہویا ملبوسات وزیورات کی شکل میں ہو تو یہ جہیز کہلاتا ہے، اوریہ والدین کی طرف سے ہدیہ  ہوتاہے  ۔اس لیے اگر والدین اپنی حیثیت کے مطابق اور خوش دلی کے ساتھ نام نمود اور اسراف سے بچتے ہوئے بیٹی کو کچھ بھی دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ،اور یہ مال بیٹی کی ملکیت شمار ہوگا،  کیونکہ جہیز کی حیثیت ہبہ کی ہے اور ہبہ میں واہب  اپنی رضامندی سے جو کچھ دینا چاہے دےسکتا ہے ،البتہ  لڑکے والوں کالڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرنا اور اسے اپنا حق سمجھ کر انہیں جہیز دینے پر مجبور کرنایا جہیز نہ دینے کی صورت میں لڑکی یا اس کے رشتہ داروں کو مطعون کرنا شرعاً جائز نہیں۔

 

وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه".(مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج:2،ص:889)

لو ‌جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب السادس،الفصل السادس،ج:1،ص:327)

شرع في الهبة التي هي تمليك عين بلا عوض فقال (هي) لغة تبرع وتفضل بما ينتفع الموهوب له... وشرعا (تمليك عين بلا عوض) أي بلا شرط عوض.(درر الحكام، كتاب الهبة،ج:2،ص:217)

هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب وقبول، وتتم بالقبض الكامل.(ملتقى الأبحر،كتاب الهبة،ص:489)


فتویٰ نمبر : 5651/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور