بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
طلاق کا مسئلہ پوچھنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
سوال
زید نے بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور رجوع بھی کیا تھا پھر دو سال بعد اس ایک طلاق کے بارے میں کسی عالم دین سے پوچھ رہا تھا ،تو سائل کا دو سال بعد عالم دین سے مسئلہ پوچھنے سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی سے طلاق کا مسئلہ معلوم کرنے کی نیت سے طلاق کے واقعہ کی خبر دینا محض حکایت ہے ا س سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر زید نے بیوی کو ایک طلاق رجعی دی ہو اور عدت کے اندر رجوع بھی کیا ہو ،تو دو سال بعد اسی طلاق کے بارے میں کسی عالم دین سے مسئلہ پوچھنے سے مزید طلاق واقع نہیں ہو ئی ہے ۔
لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي طلاقا لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال: ثم وقف وكتب امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة بالتلفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه.( فتح القدير،باب ايقاع الطلاق،ج:4،ص:4)