بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نمازمیں وسوسوں کا آنا


سوال

دوران  نماز بندہ کو وسوسے آتے ہیں اور اس وجہ سے نمازكی رکعات میں بھی غلطی ہوتی ہے توبندہ کو اس سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا  اس سے گناہ گا رہو گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں غیر اختیاری طور پر وسوسوں کے آنے سے نماز متاثر نہیں ہوتی ،اور نہ ہی ان وسوسوں کے آ نے کی وجہ سےگناہ گار ہوتا ہے ،البتہ نماز کی طرف اگر پورا دھیان رکھا جائے اور قراءت و تسبیحات پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے معنی پر بھی سوچا جائے اور نماز کے علاوہ اوقات میں کثرت سے ذکر کا اہتمام کیا جائے تو ایسی صورت میں ان وسوسوں سے بچا جاسکتا ہے ۔نیز اگر وسوسوں کی وجہ سے نماز کی  رکعات کی  تعداد میں شک ہو جائے توایسی صورت میں غالب گمان پر عمل کیا جائے گا ،لیکن اگر غالب گمان کسی طرف نہ ہوتو پھر کم رکعات کو شمار کرے گا ،مثلا تین یا چار رکعات میں شک ہوجائے تو تین رکعات شمار کرکے ایک رکعت مز ید پڑھے گا ۔

 

حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك؛ أنه بلغه ، أن رجلا سأل القاسم بن محمد فقال: ‌إني ‌أهم ‌في ‌صلاتي، فيكثر ذلك علي، فقال القاسم بن محمد: امض في صلاتك، فإنه لن يذهب عنك، حتى تنصرف وأنت تقول: ما أتممت صلاتي.( موطأ الإمام مالك،ج:1،ص:190،رقم الحديث:491)

عن أبي العلاء أن عثمان بن أبي العاص أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ‌إن ‌الشيطان ‌قد ‌حال ‌بيني ‌وبين ‌صلاتي وقراءتي يلبسها علي! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذاك شيطان يقال له خنزب، فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه، واتفل على يسارك ثلاثا. قال: ففعلت ذلك فأذهبه الله عني.( صحيح مسلم،ج:4،ص:1728،رقم الحديث:2203)

وإن ‌كثر ‌شكه عمل بغالب ظنه إن كان له ظن للحرج وإلا أخذ بالاقل لتيقنه.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،ص:101،دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 9937/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور