بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پگڑی زمین کے رواج کی شرعی حیثیت


سوال

 ہمارا علاقہ کالا ڈھاکہ(تورغر) کی قدیم زمانے سے یہ ترتیب چلی آرہی ہے کہ علاقے کے کچھ لوگ مل کر اپنے جرگو ں اور مہمانوں کے لیے خان گھرانے میں سے ایک شخص کو منتخب کر لیتے ہیں ،اور اس کو روایتی پگڑی بھی پہنائی جاتی ہےاور اس اعزاز کے ساتھ مذکورہ شخص کو زمین کا ایک حصہ بھی دیا جاتاہے)جو قوم کی جائیداد ہوتی ہے جس پر قوم کے بعض راضی ہوتے ہیں اور بعض ناراض)جس کو پگڑی والی زمین کا نام دیا جاتا ہے۔اور اس زمین میں تمام تصرفات کا اختیار خان کو ہوتا ہے کسی کو اور کو نہیں اور نہ ہی خان کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص اپنی زمین واپس لے سکتا ہے۔نیزاس شخص کے مرنے کے بعدپھر قوم کے کچھ  لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور وہ پگڑی اس خاندان کے کسی بھی شخص کے سر پر رکھ دیتے ہیں اور زمین بھی اسی کے حوالےکر دیتے ہیں حالانکہ اس آدمی پر(جس کو پگڑی پہنائی گئی)خاندان کے بعض لوگ راضی ہوتے ہیں اور کچھ ناراض مگر اکثریت راضی ہوتے ہیں۔اب پوچھنا یہ ہےکہ پگڑی والے خان صاحب کے مرنے  کی صورت میں اس کی پگڑی والی زمین میں میراث جاری ہوگی یا نہیں؟اور اس پگڑی والی زمین میں پورا خاندان شریک ہوگا یا یہ صرف خان صاحب کی متصور ہوگی؟ نیز مذکورہ  رواج کے خلاف اب  عوام نے آواز بھی اُٹھائی ہے۔

جواب

تورغر کے اس علاقائی رسم سے ہم نابلد ہیں رسم کی حقیقت تک رسائی ہمارے لیے مشکل ہے جس کے بارے میں ہم کچھ کہہ سکیں، تاہم چند بنیادی امور کوسامنے رکھتے ہوئے آپ کو اپنے مسئلہ کے بارے میں رہبری اور رہنمائی مل سکتی ہے:

  1. "عرف" فقہی مراجع اور مآخذ کا ایک جزء ہے، جس سے معاشرہ کو بسا اوقات استحکام ملتا ہے، اور لوگوں کو امن وامان کی فضا میں سانس لینے کا موقع ملتا ہے۔جس کی وجہ سے شریعت نے باقاعدہ عرف کو اعتبار دیا ہے۔
  2. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں کہیں عرف شریعت کے بنیادی اصول سے متصادم ہو تو وہاں عرف کو اعتبار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
  3. عرف کے ایسے فیصلوں میں یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک کی رائے کو اعتبار دیا جائے۔ بلکہ قوم کے اصحاب حل و عقدیا سنجیدہ طبقہ کا اتفاق کافی ہے۔عام لوگ ان کے فیصلے کے پابند ہوتے ہیں۔ ہرکسی کو ایسے علاقائی فیصلے میں اگرخلاف کرنے کا حق دیا جائے اور سب کااتفاق ضروری قرار دیا جائے تو ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہوتا ہے۔ جس سے معاشرے کا ماحول بگڑ سکتا ہے۔

ان امور کو سامنے رکھتے ہوئے آپ علاقائی رسم "روایتی پگڑی" بظاہر ایک قبائلی نظام یا علاقائی ماحول میں معاشرہ میں استحکام کے لیے ایک مستحسن اقدام ہے، اور آپ کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پگڑی خاندانوں میں بدلتی رہتی ہےیعنی کبھی ایک کے پاس اور کبھی دوسرے کے سر پر یہ پگڑی سجائی جاتی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی شخص یا خاندان کو ہبہ نہیں بلکہ خدمات کی ذمہ داریوں کے عوض حق الخدمت کے طور پر زمین دی جاتی ہے۔

لہذا اولاًتو اس میں قوم کےہرفرد کی رائے کو اعتبار دینا مشکل ہے۔ جرگہ کے ذمہ دار افراد جو فیصلہ کریں تو پوری قوم کو اس کاماننا ضروری ہوگا۔ایسا ہی جب یہ قومی خدمات کے عوض حق الخدمت کے طور پر دیا جاتا ہے، تو جب تک خدمت کی ذمہ داری ہوگی تو اس زمین سے استفادہ کرسکتا ہے اور جب خدمات کی ذمہ داری نہ ہو اور اس سے قومی فیصلہ کے مطابق معزول ہو تو استفادے کا حق نہیں رہے گا جیسا کہ بعض علاقوں میں مسجد کے امام کو امامت وخطابت کے عوض "سیری" کے نام سے جو زمین دی جاتی ہے تو وہ صرف منصب امامت پر فائز رہنے تک محدود ہوتا ہے۔ اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی ۔ ہاں جہاں کہیں امام کو ہبہ کے طور پر کچھ دیا جاتا ہے اوراس میں منصب امامت پر فائز ہونا ترجیحی سلوک کی وجہ بنےتو ایسے امور میں ہبہ ملکیت کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

 

واعلم ‌أن ‌اعتبار ‌العادة ‌والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلا.(الأشباءوالنطائر،القاعدة السادسة،ص:79)

وكل عرف ‌ورد ‌النص ‌بخلافه فهو غير معتبر.(المبسوط للسرخسي،كتاب البيوع،ج:12،ص:196)

والعرف ‌في ‌الشرع له اعتبار ... لذا عليه الحكم قد يدار.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،باب المهر،ج:3،ص:147)   

إذا خالف العرف الدليل الشرعي فإن خالفه من كل وجه؛ بأن لزمه منه ترك النص، فلا شك في رده.(نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف،الباب الأول،ص:85)

 


فتویٰ نمبر : 5625/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور