بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تجدید نکاح میں شوہر کا بیوی کی طرف سے وکیل بننا


سوال

تجدید نکاح میں کیا شوہر بیوی کا وکیل بن سکتا ہے ؟ یعنی اگر شوہر ہی بیوی سے اجازت لے کر اس کا وکیل بن جائےاور دو گواہوں کی موجودگی میں بیوی کی طرف سے ایجاب اور اپنی طرف سے قبول کرلے تو کیا تجدید نکاح ہو جائے گا؟

جواب

عورت کسی شخص کو اپنے ساتھ نکاح کرانے کے لیے وکیل مقرر کرے تو اس صورت میں وکیل کا اپنے ساتھ اس  مؤکلہ  عورت کا نکاح کرانا  جائز ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر اپنی  بیوی سےاجازت لے کرتجدید نکاح کے لیےاس کا وکیل بن جائے اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرے تو ایسا نکاح  شرعاً جائز ہے۔

 

"(كما للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر (قوله فإن له ذلك) أي تزويجها لنفسه بشرط أن يعرفها الشهود، أو يذكر اسمها واسم أبيها وجدها أو تكون حاضرة منتقبة، فتكفي الإشارة إليها وعند الخصاف لا يشترط كل ذلك: بل يكفي قوله زوجت نفسي من موكلتي كما بسطه في الفتح والبحر،".(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب النكاح،باب الكفاءة،ج:3،ص:93)


فتویٰ نمبر : 6786/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور