بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلباء کے لیے مدرسے کی بجلی استعمال کرنا


سوال

بڑے بڑے جامعات میں عموما طلبہ استری ،الیکٹرانک ترماس یا ہیٹر وغیرہ استعمال کرتے ہیں ،جن کی جامعہ کی طرف سے صراحتا اجازت نہیں ہوتی یا وہ پابندی لگالے اور اسکے باوجود بھی طلبہ اس کو استعمال کرتے ہیں یا کوئی معمولی سی رقم اسکے عوض مدرسے میں جمع کرے تو شریعت کی روسے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی طالب علم کسی مدرسہ میں داخلہ لیتا ہے تو وہ مدرسہ کے جملہ اصول وضوابط کی پاسداری کا عہد کرتا ہے ،پس  اگر کسی  مدرسہ کی طرف سے طلبہ کے لیے استری ،الیکٹرانک ترماس یا ہیٹروغیرہ استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو ،تو کسی طالب علم کا مدرسہ میں چوری چھپے ان آلات  کا استعمال کرنا شرعا ناجائز ہوگا ۔

 

‌الثامنة ‌في‌‌ ‌وقف ‌المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحةالمسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،باب ‌وقف ‌المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة،ج:5،ص:233)

وفي الإسعاف ‌وليس ‌لمتولي ‌المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،باب كان إلى المسجد مدخل من دار موقوفة،ج:5،ص:270)

‌الوكيل ‌إنما ‌يستفيد ‌التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره.( رد المحتار، على الدر المختار،كتاب الزكوة،ج:2،ص:279)


فتویٰ نمبر : 5619/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور