بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
مسمیٰ احمداللہ انتقال کا ہوچکا ہے، اس کے ورثا میں ایک بہن(وزیرہ)اورتین چچازاد بھائی(ماجان،حسین اور شہزادہ) زندہ تھے، پھر حسین کا انتقال ہوگیا اور اس کے ورثا میں ایک چچا زاد بہن (وزیرہ)اور دو چچا زاد بھائی(ماجان اور شہزادہ)تھے،پھر ماجان کا انتقال ہوا اور اس کے ورثا میں یہی ایک چچا زاد بہن(وزیرہ)اور ایک چچا زاد بھائی(شہزادہ )موجود تھا ۔اب سوال یہ ہے کہ مرحوم احمداللہ کا میراث ان کے ورثا میں شرعاً کیسے تقسیم ہوگا؟
جواب
میـــــــ(احمداللہ)ــــ(12)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بہن چچا زاد بھائی چچا زاد بھائی چچازاد بھائی
وزیرہ ماجان حسین شہزادہ
6 2
میـــــــــــــ(حسین)ـــــــــــــــــــــت
بہن چچا زاد بھائی چچازاد بھائی
وزیرہ ماجان شہزادہ
1
میــــ(ماجان)ــــــــــــت
بہن چچازاد بھائی
وزیرہ شہزادہ
3
الاحــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــیاء
وزیرہ شہزادہ
6 6
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم(احمداللہ)کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالاترتیب سے ہوئی ہوں تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ بارہ(12)حصوں میں تقسیم ہوکر وزیرہ اور شہزادہ میں سے ہر ایک کو چھ،چھ حصے ملیں گے۔
قال اللہ تعالى: إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ. (النساء:176)
أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف:۔۔۔۔ثم جزء جده أي الأعمام ثم بنوهم وإن سفلوا. (السراجي في الميراث، باب العصبات، أحوال العصبة بنفسه، ص:36۔37)