بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صغیرہ گناہ کی وضاحت


سوال

 کبیرہ گناہ مثلا والدین کی نافرمانی ،جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا۔ اسی طرح صغیرہ گناہ کو مثالوں کے ساتھ بیان کریں تو مہربانی ہو گی۔

جواب

اللہ تعالی کے حکم اور مرضی کے خلاف کام  "گناہ"کہلاتاہے، اللہ تعالی کی نافرمانی اور مخالفت ہر حال میں بڑاجرم ہے، تاہم شر یعت مطہرہ نے جرم کی نوعیت کو دیکھ کر بعض گناہ کبیرہ اور بعض کو صغیرہ قرار دیا ہے ۔

جن گناہوں پر قرآن میں کوئی شرعی حد یعنی سزا دنیا میں مقرر کی گئی ہے یا جس پر لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا جس پر جہنم وغیرہ کی وعید آئی ہے وہ گناہ کبیرہ ہیں جیسے شرک کرنا،کسی کو قتل کرنا ،زناوغیرہ، اسی طرح  وہ گناہ بھی کبیر ہ میں داخل ہوتاہےجس کے مفاسد اور برےنتائج کسی کبیرہ گناہ کے برابریا اس سے زائد ہوں، نیز جو گناہ صغیرہ جرأت و بےباکی کے ساتھ کیا جائے یا جس پر مداومت کی جائے تو وہ بھی کبیرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جن گناہوں پرمخصوص سزا، لعنت یا وعید نہیں آئی ہے صرف ممانعت وارد ہوئی ہے وہ صغیرہ ہیں،جیساکہ بدنظری، غیبت سننا،قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرکے قضاء حاجت کرنا، بشرطیکہ ان گناہوں پراصرار نہ کرے ۔

 

قال الله تعالى:الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلا اللَّمَمَ (النجم :32 )قال الواحدي وقوله: إلا اللمم يعني: صغائر الذنوب، كالنظرة، والقبلة، وما كان دون الزنا، وهذا قول ابن مسعود، وأبي هريرة، والشعبي،(التفسیرالوسیط للواحدی،تفسیر سورۃالنجم،ج:4،ص:201)

وقد ضبط بعض العلماء الكبائر بأنها كل ذنب قرن به وعيد أو حد أو لعن فعلى هذا كل ذنب علم أن مفسدته كمفسدة ما قرن به الوعيد أو الحد أو اللعن أو أكثر من مفسدته فهو كبيرة(المنھاج شرح صحیح مسلم،باب الکبائر واکبرھا،ج:2،ص:86)

قال القرطبي:وفي الصحاح: وألم الرجل من اللمم وهو صغائر الذنوب، ويقال: هو مقاربة المعصية من غير مواقعة.(الجامع لأحكام القرآن،ج:17،ص:108)

أن الإصرار على ‌الصغيرة حكمه حكم الكبيرة ... وما نقله عن الفقهاء ليس هو قول جميعهم، لكن كلام الرافعي يشعر بترجيحه حيث حكى في تعريف الكبيرة وجهين: أحدهما: هذا، والثاني: ما فيه وعيد شديد.(عمدةالقاري،كتاب الوضوء،باب،ج:3،ص:116)


فتویٰ نمبر : 5661/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور