بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قرآنی آیات پر مشتمل اوراق کو جلانا
سوال
ایک سرکاری ادارے میں مختلف مواقع پر تلاوت وغیرہ کے لئے آیاتِ قرآنی کا کاغذ پر پرنٹ لیا جاتا ہے جنہیں ایک محفوظ جگہ رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات حساس معلومات کے ساتھ قرآنی آیات درج ہوتی ہیں، ان حساس معلومات کوفوری طور پرتلف کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان معلومات کا کسی غیر متعلقہ فرد کے ہاتھ لگ جاناملکی و قومی سالمیت کے لئے خطرے کا سبب بنتا ہے۔ ان اوراق کو کسی جگہ دفن کرنے یا سمندر وغیرہ میں ڈالنے سے حساس معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے ہاتھ لگ جانے کا اندیشہ ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ :۱۔ وہ اوراق جن میں فقط قرآنی آیات ہوں کیا ان کو شریڈ (پرزہ پرزہ) کرنے کے بعد جلانے کی اجازت ہے ؟۲۔ وہ اوراق جن میں قرآنی آیات کے ساتھ حساس معلومات درج ہوں کیا ان کو شریڈ (پرزہ پرزہ) کرنے کے بعد جلانے کی اجازت ہے؟
جواب
قرآنی آیات پر مشتمل بوسیدہ اوراق کا حکم یہ ہے کہ ان کو دفن کیا جائے،نیز بوقت ضرورت ان کا جلانا بھی جائز ہے،تاہم جب تک دفن کرنے پر اکتفاء ممکن ہو تو ان کے جلانے سے احتراز کیا جائے تاکہ حتی الامکان قرآن کریم کی تعظیم کی رعایت کی جاسکے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جن اوراق میں فقط قرآنی آیات ہوں،اور کوئی حساس معلومات درج نہ ہوں تو ان کو پرزہ پرزہ کرکے جلانے کی بجائے دفن کرناچاہیے، تاہم جن اوراق میں حساس معلومات درج ہوں اور وہ واقعتاً غیر متعلقہ افراد کے ہاتھوں آنے اور غلط استعمال ہونے کا امکان ہوتو پھر ان کو جلانا جائزہے ۔
حدثنا موسى حدثنا إبراهيم:حدثناابن شهاب أن أنس بن مالك حدثه:أن حذيفة بن اليمان قدم على عثمان، وكان يغازي أهل الشام في فتح إرمينية وأذربيجان مع أهل العراق... وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا، وأمر بما سواه من القرآن في كل صحيفة أو مصحف أن يحرق. (صحيح البخاري، ج:4، ص:1908، رقم الحديث: 4702)
وفى أمر عثمان بتحريق الصحف والمصاحف حين جمع القرآن جواز تحريق الكتب التى فيها أسماء الله تعالى. (شرح صحيح البخاري لابن بطال، ج:10، ص:226، مكتبة الرشد، الرياض)
وفي السراجية: إذا صار المصحف خلقا ينبغي أن يلف في خرقة طاهرة، ويدفن في مكان طاهر أو تحرق.(الفتاوى التاتارخانية، ج:18، ص:69، مكتبه رشيديه، كوئٹه)
الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن. قال ابن عابدين: وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل. (رد المحتار على الدر المختار، ج:6، ص:422، دار الفكر، بيروت)
ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:73، دار الكتب العلمية، بيروت)