بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

والدين كا نان نفقہ اور ان کی خدمت


سوال

 جب والدین کمزور ہوجائے تو اس کی خدمت اور نان نفقہ کس پر لازم ہوتاہے ؟کیا بچوں پر یہ فریضہ عائد ہوتاہے کہ نہیں؟ 

جواب

اگر والدین مالدار ہوں، تو ان کا نان و نفقہ ادا کرنا اولاد کے ذمہ ضروری نہیں ، چاہے اولاد مالدار ہی کیوں نہ ہوں، البتہ اگر والدین مالدار نہ ہوں اور ان کے نان و نفقہ کے لئے کوئی متبادل انتظام بھی نہ ہو، تو اس صورت میں والدین کا نفقہ بالغ مالدار اور صاحبِ حیثیت اولاد پر واجب ہوگا، تنگدست اولاد پر  مستقل طور پر واجب نہیں ہوگا۔تاہم والدین کو ان اولاد کے ساتھ رہائش اور کھانے وغیرہ میں شریک کیا جائےگا۔اسی طرح والدین کے ساتھ حسن سلوک او ر ان کی خدمت بھی بیٹوں اور بیٹیوں پر لازم ہے ۔

 

قال الله تعالی:وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا۔(الإسراء:23)

(ولابویہ واجدادہ وجداتہٖ لوفقراء) ای تجب النفقۃ لِھٰؤلاء……واطلق فی الابن ولم یقید فی الغنی مع انہٗ مقید بہ لما فی شرح الطحاوی ولایجبر الابن علٰی نفقۃ أبويه المعسرین اذاکان معسراً إلا إذا كان بهما زمانة أو بهما فقر فقط فإنهما يدخلان مع الابن ويأكلان معه ولا يفرض لهما نفقة على حدة۔(البحر الرائق:كتاب الطلاق،باب النفقة،ج:4،ص:349)

وعلی الرجل المرسر أن ینفق علی أبویہ وأجدادہ وجداتہإذا کانوا فقراء وإن خالفوہ فی الدین۔(الھدایۃ:کتاب النکاح،باب النفقۃ،ج:2،ص:440)


فتویٰ نمبر : 5616/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور