بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
محمد اشرف فوت ہوا ہے، اور اس کے چھ بیٹے(امتیاز، ریاض، نواز، اعجاز، شیراز، راشد) اور چار بیٹیاں (ناہید، نویدہ، فرزانہ، شازیہ) تھیں، جن میں بیٹا امتیاز والد سے پہلے فوت ہوگیاتھا،والد کے بعدباقی پانچ بیٹوں میں ریاض کا انتقال ہوگیا اور اس کے ورثاء میں ایک بیوہ (کوثر پروین)، چار بھائی (نواز، اعجاز، شیراز، راشد)، چار بہنیں(ناہید، نویدہ، فرزانہ، شازیہ) موجود ہیں،اور ایک لے پالک بیٹی(عظمی) بھی ہے، جبکہ محمد اشرف کا ترکہ اب تک تقسیم نہیں ہوا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ محمد اشرف کا ترکہ ان مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟
جواب
میـــــ(محمد اشرف)ـــــــ(112)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
ریاض نواز اعجاز شیراز راشد ناہید نویدہ فرزانہ شازیہ
16 16 16 16 8 8 8 8
میــــــــ(ریاض)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بھائی بھائی بھائی بھائی بہن بہن بہن بہن
کوثرپروین نواز اعجاز شیراز راشد ناہید نویدہ فرزانہ شازیہ
4 2 2 2 2 1 1 1 1
الأحيــــــــــــــــــــ(3360)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
نواز اعجاز شیراز راشد ناہید نویدہ فرزانہ شازیہ کوثر پروین
18 18 18 18 9 9 9 9 4
بشرط صدق ثبوت اگر مرحوم محمد اشرف کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو،اور اموات بھی درجہ بالا ترتیب سے ہوئی ہوں،تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ ایک سو بارہ(112)حصوں میں تقسیم ہوکر نواز، اعجاز، شیرازاورراشد میں سے ہر ایک کو 18/112 حصے، ناہید، نویدہ، فرزانہ،اورشازیہ میں سے ہر ایک کو9/112حصے،اور کوثر پروین کو112/ 4حصے ملیں گے،جبکہ امتیاز اور لے پالک عظمی کا محمد اشرف کے میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا ہے۔
قال الله تعالى:﴿يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين﴾.(النساء:11)
وقال تعالى:﴿وَلَهُنَّ الربع مما تركتم إن لم يكن لكن لكم ولد﴾.(النساء:12)
ثم جزء أبيه أي الاخوة ثم بنوهم وإن سفلوا.(السراجي في الميراث، باب العصبات، ص: 36)