بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

موبائل سے تصویر کھینچنے کا حکم


سوال

موبائل میں فوٹو کھینچنا کیسا ہے؟

جواب

سکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجیٹل تصویر بھی تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے یہی وجہ ہے کہ عرف میں بھی اس کو تصویر کہا جاتا ہے لہذااس پر بھی تصویر کا حکم لاگو ہوگا ۔البتہ ضرورت کے پیش نظر قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ یا نوکری وغیرہ کیلئے تصویر کھینچوانے کی گنجائش ہے، لیکن محض نفسانی خواہشات کے لیے ڈیجیٹل کیمرے سے تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہے  لہذا موبائل پر آج کل جو غیر ضروری تصاویر نکالنے کا ایک رواج چل پڑا ہے  شرعاً اس کی گنجائش نہیں اس سے احتراز ضروری ہے۔ اور ویڈیوزبنانے کا بھی یہی حکم ہے۔

 

وظاهركلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويرصورة الحيوان فإنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصويرصورالحيوان حرام شديدالتحريم وهومن الكبائر لأنه متوعد عليه بهذاالوعيدالشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل مافي الصحيحين عنه أشدالناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواءكان في ثوب أوبساط أو درهم ودينار وفلس وإناءوحائط وغيرها، فينبغي أن يكون حرامالا مكروهاإن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره.(البحر الرائق، باب مايفسدالصلوة وما يكره فيها، ج2،ص29)

الضرورات تبيح المحظورات۔(الأشباه والنظائر لابن نجيم ص72)

 


فتویٰ نمبر : 5623/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور