بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امتحان میں نقل کرنا


سوال

کیا امتحان میں نقل کرنا حرام ہے یا نہیں اور کیا یہ خیانت میں آتا ہے؟

جواب

امتحانات کا بنیادی مقصد طلباء کرام کی استعداد،قابلیت اور صلاحیت کو جانچنااور پرکھنا ہوتاہے، اسی کے مطابق امتحانی بورڈ یا متعلّقہ اداروں کی طرف سے طلباء کرام کو سندات جاری  کی جاتی ہیں،جوکہ اعلیٰ اور ادنیٰ استعداد والے طلباءکے معلوم کرنے کا معیار ہوتا ہے۔اس لیے نقل کے  ذریعے امتحان میں کامیابی یا زیادہ نمبرات حاصل کرکے کمزور استعداد والے شخص کا اپنے آپ کو ذی استعداد ظاہر کرنا جھوٹ اور خیانت کے زمرے میں داخل ہے ،جو کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔

 

قال الله تعالى:﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ﴾(سورةالانفال:58)

و قال تعالى:﴿ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ﴾(سورةالحج:30)

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‌آية ‌المنافق ‌ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان. (صحيح البخاري،كتاب الإيمان،باب علامة المنافق،ج:1،ص:143،مكتبةالبشرى)

"فالكذب الإخبار على خلاف الواقع وحق الأمانةأن تؤدى إلى أهلها،فالخيانةمخالفةلها۔"(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الإيمان،باب الكبائر وعلامات النفاق،ج:1،ص:226،مكتبه حقانيه)


فتویٰ نمبر : 5613/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور