بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
باغ کی قیمت میں زکوةيا عشر
سوال
باغ فروخت کرنے کے بعد جو رقم بائع کے پاس آتی ہے کیا اس میں عشر واجب ہے یا زكوٰة ،نیزاس رقم سے قرض منہا کیا جائے گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ باغ کا مالک اگر باغ کو فروخت کرے تو اس کی دو صورتیں ہیں ، اگر پھل پک جانے کے بعد اس کو فروخت کیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو جو رقم ملی ہو اس میں عشر واجب ہو گا ۔ لیکن اگر پھل پک جانے سے پہلے فروخت کرے تو اگر مشتری فورا اس کو کاٹ دے تو بھی عشر کی ادائیگی بائع کے ذمہ ہو گی لیکن اگر مشتری اس کو چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی ملکیت میں باغ پک جائے تو عشر مشتری کے ذمہ ہو گا اور جو رقم بائع کو مل جائے اس میں زکوۃ واجب ہو گی عشر نہیں۔
ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع. (ردالمحتارعلى الدرالمختار ، كتاب الزكوة ، باب العشر ، فروع في زكاة العشر ، ج:2 ، ص:333)
وإذا باع الأرض العشرية، وفيها زرع قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري، ولو باعها والزرع بقل إن فصله المشتري في الحال يجب على البائع، ولو تركه حتى أدرك فعشره على المشتري. (الفتاوى الهندية ، كتاب الزكوة ، الباب السادس في زكوة الزروع والثمار ، ج:1 ، ص:249 )