بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
ماء جاری میں نجس چیز دھونا
سوال
اگر جاری پانی سے نجس چیز کو دھویا جائے ،پھر وہ پانی کسی جگہ ٹھہر جائے تو اس پانی کا کیا حکم ہے ؟اس میں تو اتفاق ہے کہ مستعمل ہے لیکن ناپاک ہے یا پاک؟میرا سوال ماء جاری کے متعلق ہے ۔
جواب
واضح رہے کہ جو پانی جاری ہو ،جیسے نہر اور ندی وغیرہ یا جاری کے حکم میں ہو ، جیسے بڑا حوض یا بڑا تالاب تو اس میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس نجاست کی وجہ سے اس پانی کا رنگ ، بویا ذائقہ تبدیل ہو جائے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر نجس چیز کو جاری پانی میں دھویا جائے اور وہ پانی ماء جاری سے الگ نہ ہو تو وہ پاک شمار ہو گا ۔ البتہ اگر وہ مستعمل پانی ماءجاری سے الگ ہو کر کسی جگہ ٹھہر جائے تو ناپاک ہو گا ۔
أن الماء الجاري إذا وقعت فيه نجاسة يجوز الوضوء به إذا لم ير أثرها؛ لأن النجاسة لا تستقر مع جريان الماء فلما لم يظهر أثرها علم أن الماء ذهب بعينها ولم تبق عينها موجودة فجاز استعمال الماء. (البحرالرائق ، كتاب الطهارة ، باب أحكام المياه ، فصل في الوضوء بالماء ولو خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه ، ج:1 ، ص:89 )
والماء الجاري إذا وقعت فيه نجاسة جاز الوضوء منه إذا لم ير لها أثر لأنها لا تستقر مع جريان الماء " والأثر: هو الرائحة أو الطعم أو اللون. ( الهداية ، كتاب الطهارة ، باب الماء الذي يجوز به الوضوء وما لا يجوز ، مدخل ، ج:1 ، ص:21 )
وبتغير أحد أوصافه من لون أو طعم أو ريح ينجس الكثير ولو جاريا إجماعا، أما القليل فينجس وإن لم يتغير. ( رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الطهارة ، باب المياه ، ج:1 ، ص:85 )