بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چار ماہ کا حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والے خون کا حکم


سوال

 زید کی اہلیہ کا حمل چارہ ماہ دس دن بعد ضائع ہوا۔ اب زید کی اہلیہ کو جو خون آتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ یہ نفاس کا خون ہے یا حیض وغیرہ کا؟

جواب

جب حاملہ کا حمل ضائع ہوجائے تو اگر بچے کے اعضاء میں سے کسی عضو مثلا: ہاتھ، پیر، انگلی وغیرہ کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو تو اس کا خون نفاس شمار ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگر چارماہ دس دن کا حمل ضائع ہوا ہے، تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس کا شمار کیا جائے گاکیونکہ اتنی مدت میں کچھ اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہوتی ہے۔

 

(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (‌ظهر ‌بعض ‌خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والامة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شئ فليس بشئ، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ص:45، دار الكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 9814/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور