بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
سید کو زکوۃ دینے سے ذمہ کا فارغ ہونا
سوال
جس علاقہ کے لوگ عرصہ دراز سے مثلا چالیس سال سے سید کے خاندان میں سے جو فقیر اور غریب تھے،ان کو زکوۃ دیتے آرہے ہوں تو ان کی زکوۃ کی ادائیگی کا کیاحکم ہے؟کیا ان کا ذمہ اس سے فارغ ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو غیر سید اور مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دی گئی ہو اور بعد میں پتا چلا کہ وہ مستحق نہیں تھا یا وہ سید تھا، تو ایسی صورت میں دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔لیکن اگر تحقیق کئے بغیر غیر مستحق کو زکوۃدی ہو اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ غیر مستحق تھایاعلم کے باوجود غیر مستحق کو زکوۃ دی تو ایسی صورت میں دوبارہ زکوۃ اداکرنا ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی کوپہلے سے معلوم ہو کہ زکوۃلینے ولاشخص سیدہے لیکن اس کے باجوداس کو زکوۃ دی ہو تو اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوئی بلکہ ایسی صورت میں دوبارہ زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ اسی طرح اگر پہلے سے معلوم نہ تھا مگر تحقیق کئے بغیر زکوٰۃ دی اور بعد میں مصرف کی غلطی کا علم ہوا، تو بھی زکوۃ ادا نہیں ہوئی۔
وإذا دفعها، ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف، وإذا دفعها إليه، وهو شاك، ولم يتحر أو تحرى، ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف هكذا في التبيين.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،ج:1،ص:190)
( دفع بتحر ) لمن يظنه مصرفًا ( فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنًا أعادها ) لما مر ( وإن بان غناه أو كونه ذميًا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد؛ لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ... وهذا يؤيد ما مر من عدم وجوب الإعادة فيه، والتعليل بعدم وجود صفة القربة محل نظر فتدبر (قوله: ولو دفع بلا تحر) أي ولا شك كما في الفتح. وفي القهستاني بأن لم يخطر بباله أنه مصرف أو لا، وقوله لم يجز إن أخطأ أي إن تبين له أنه غير مصرف فلو لم يظهر له شيء فهو على الجواز وقدمنا ما لو شك فلم يتحر أو تحرى وغلب على ظنه أنه غير مصرف.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكوة،باب العشر،ج:2،ص:352)