بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
کسی کی ایمانداری كو برا بھلا کہنا
سوال
اگر کوئی شخص کسی کی ایمانداری کو انتہائی نازیباگالی دے تو کیا دائرہ اسلام سے خارج ہے؟ مطلب اگر کسی کے بارے میں کہے کہ یہ بہت ایماندار بنتا ہے، سکول سے جلدی چھٹی نہیں کرتا۔ اس کی ایمانداری کو میں اور اس کے بعد اس کی ایمانداری کو انتہائی نازیبا گالی دے۔ گالی کی نیت اس کے ایمان و یقین کو گالی دینے کی نہ ہو۔ بلکہ سکول میں ڈیوٹی ایمانداری سے کرنے پر گالی کی ہو۔اور سکول میں ایمانداری سے ڈیوٹی پر اس کی ایمانداری کو نازیبا گالی دیتا ہے تو کیا ایسا بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہے؟ کیا تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازمی ہے؟ بڑا ایماندار بنتا ہے، اس کی ایمانداری کو میں چود دوں کہہ دے جب کہ نیت میں اس کے ایمان اور یقین کو گالی دینا مقصود نہ ہو بلکہ سکول وقت پر چھٹی نہ کرنے پر ایمانداری کو گالی دی۔ (دراصل سکول کے باہر انتظار کرے لیکن جس کا انتظار کیا جائے وہ نہ آئے تو غصے میں کہے بہت ایماندار بنتا ہے اس کی ایمانداری کو چود دوں ۔ جب کہ نیت صرف سکول میں ایمانداری سے ڈیوٹی پر گالی دینے کی ہو، اس کے ایمان کو نہیں) جیسے ہی یہ گالی دے فورا احساس ہو کہ یہ کیا کہہ دیا ، کہیں میں دائرہ اسلام سے نکل گیا اب پھر تجدید ایمان اور نکاح کروں گا؟
جواب
عام طور سے ایمانداری سے امانت داری اور سچائی وغیرہ جیسے اوصاف مراد ہوتےہیں،چنانچہ اگر کوئی کسی کی ایمانداری کو گالی دے اور مقصوداس کی امانت داری ہو تواس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاسکتا،البتہ ایک اچھی صفت کو گالی دینے اور مسلمان کی آبروریزی کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی کی ایمانداری کو گالی دینا ناجائز ضرور ہے لیکن اس کی وجہ سے وہ شخص دائرہ اسلام سے نہیں نکلا اور نہ ہی اس کی لیے تجدید ایمان اور نکاح کی ضرورت ہے ۔
"ثم إن مقتضى كلامهم أيضا أنه لا يكفر بشتم دين مسلم: أي لا يحكم بكفره لإمكان التأويل…ولكن يمكن التأويل بأن مراده أخلاقه الرديئة ومعاملته القبيحة لا حقيقة دين الإسلام،…".(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الجهاد،باب المرتد،ج:4،ص:230)