بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جاسوسی کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچانے کا حکم


سوال

زید  اپنی گاڑی میں کچھ اشیاء ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتاہے ،جس کا وہ مخصوص ٹیکس حکومت کو دیتا ہے۔ بیچ میں  خالدنامی شخص حکومت کو اطلاع دیتا ہے تاکہ وہ زید کی گاڑی پکڑے۔ خالد کی اطلاع کے بعد حکومت زید کی گاڑی پکڑلیتی ہے اور زید سے پچاس لاکھ روپے لیتی ہے ۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ خالد نے جو بیچ میں چغلی کی ہے جس کی وجہ سے زید سے حکومت نے پچاس لاکھ روپے لئےہیں ، ان پیسوں کا مطالبہ اب زید خالد سے کرسکتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں شرعا مسئلہ کا حل کیا ہے ؟

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق  کسی چیز کے ضائع ہونے میں جب مباشر(چیز کو براہ راست ضائع کرنے والا) اور مسبب (سبب بننے والا)دونوں جمع ہوجائیں  تو ضمان مسبب کی بجائے  مباشر پر آتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر پولیس نے گاڑی پکڑ کر  گاڑی والے سے پچاس لاکھ روپے لئے ہوں خواہ کسی قانونی جرم کی وجہ سے ہو یا رشوت کی بنا پر ہو،تو جس شخص نے پولیس کو اطلاع دی ہو،وہ فقط سبب کے درجہ میں ہےاور گاڑی والے  کا پولیس کو پیسے دینا اپنا فعل ہے لہذا جاسوس پر کوئی ضمان نہیں آئیگا۔

 

ذكر البزدوي أنه لو سعى ‌إلى ‌السلطان فغرمه روي عن بعض علمائنا أنهم أفتوا بضمان الساعي وبعضهم فرقوا بين سلطان وسلطان بأنه إذا كان معروفا بتغريم من سعى إليه ضمن وإلا فلا قال: ونحن لا نفتي به فإنه خلاف أصول أصحابنا إذ السعي سبب محض للإهلاك إذ السلطان يغرمه اختيارا لا طبعا.(مجمع الضمانات،ص:155،باب فى إتلاف مال الغير وإفساده مباشرة وتسببا،دارالكتاب الاسلامى)

لو فعل واحد فعلا  يكون سببا لتلف شيئ فحل فى ذالك الشيء فعل اختياري كأن جاء آخر فأتلفه مباشرةفالضمان على ذالك الفاعل المباشر صاحب الفعل الاختياري.يعني اذا اجتمع المسبب والمباشرأضيف إلى المباشر.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:925،ص:517،المطبعة الأدبية بيروت)

 


فتویٰ نمبر : 5626/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور