بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایک مسجد میں نماز پڑھ کر دوسری مسجد میں اذان دینا


سوال

ایک مسجد میں نمازپڑھنے کے بعد دوسری مسجدمیں نماز کے لیے اذان دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

ایک مسجدمیں   نماز پڑھنے کے بعد  دوسری  مسجدمیں  اذان دینا اس نمازی کے حق میں نفل اذان شمار ہوگاجب کہ نفل اذان مشروع نہیں  ،نیزیہ بھی مناسب نہیں کہ فرض نماز کے لیےلوگوں کو تو بلایا جائے لیکن خود ان کےساتھ نماز میں  شامل  نہ ہو۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد دوسری مسجد میں اسی نماز کے لیے اذان دینا مشروع نہیں ۔

 

(‌قوله: ‌في ‌مسجدين) لأنه إذا صلى في المسجد الأول يكون متنفلا بالأذان في المسجد الثاني والتنفل بالأذان غير مشروع؛ ولأن الأذان للمكتوبة وهو في المسجد الثاني يصلي النافلة، فلا ينبغي أن يدعو الناس إلى المكتوبة وهو لا يساعدهم فيها. (رد المحتار على الدرالمختار ، كتاب الصلاة ، باب الأذان ، ‌‌فائدة التسليم بعد الأذان ، ج:1 ، ص:400 )


فتویٰ نمبر : 9811/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور