بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
والد سے زندگی میں میراث کے عوض کچھ حصہ لے کر میراث سے دستبردارہونا
سوال
اگر ایک بیٹا والد کی زندگی میں جائیداد میں سے وہ حصہ جو باپ کے مرنے کے بعد اس کو میراث میں ملنا تھا کا تقاضا کرےاور والد سے ترکہ پدری میں حصہ داری کے عوض رقم وصول کرے پھر اسٹامپ پیپر دیگر گواہان کی موجودگی میں تحریر کردےکہ وہ والد کی وفات کے بعد کچھ بھی دعویداری یا مطالبہ نہیں کرے گا،تو کیا باپ کے مرنے کے بعد اس کا باپ کے میراث میں کچھ حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
جواب
آدمی اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد کا خود حق دارہوتا ہے کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی میں اس سے حصے کا مطالبہ کرے، تا ہم اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی مرضی سے اپنے کسی بیٹے یا کسی اور رشتہ دارکو کچھ دے دے،اور وہ اپنی زندگی میں اس پرقبضہ کرے،تو شرعا یہ ہبہ متصور ہوگا،اوراس کا میراث سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
صورت مسئولہ میں اگر باپ اپنی مرضی سے بیٹے کو کچھ دے دے تو یہ ہبہ متصور ہوگا،چنانچہ اس سے بیٹا میراث سے محروم نہیں ہوگا،البتہ بیٹے کو چاہیے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے مصالحت کے طور پر کوئی معمولی چیزلےکر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے،تا ہم یہ اس کی رضامندی اور اختیار پر ہوگا،دیگر رشتہ داروں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ جبری طور پر اس کو میراث سے محروم کریں۔
الإرث يثبت بعد موت المورث. (البحر الرائق،كتاب الفرائض،ج:9،ص:364)
قال النووي: أجمعوا على أن من وعد إنسانا شيئا ليس بمنهي عنه فينبغي أن يفي بوعده۔۔۔فلو تركه فاته الفضل وارتكب المكروه كراهة شديدة. (مرقاة المفاتيح،كتاب الأدب،باب المزاح،ج:9،ص:130)
لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لايبطل بالترك.الأشباه والنظائر لابن نجيم،ص:309،قديمي)