بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آمدنی میں کمی آنے کی وجہ سے زکوۃ دینے اور نماز پڑھنے سے انکار کرنا


سوال

ایک شخص صاحب نصاب ہے اور وہ کہتا ہے کہ جب میں اپنے مال سے زکوۃدیتا ہوں تومیرامال کم ہوتا ہے،اسی وجہ سے میں زکوٰۃ ادا نہیں کرتا،اسی طرح یہ بھی کہتاہے کہ میں نماز اس وجہ سے نہیں پڑھتا ہوں کہ میرا مال ضائع ہونے کا خدشہ ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ شریعت  اس شخص کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے کیا یہ دائرہ اسلام سے خارج ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ دینے  اور نماز پڑھنےسے انکار کفر نہیں  البتہ اگر کوئی زکوۃ اور نماز  کی فرضیت کا انکار کر تا ہو، تو  وہ کافر ہو جائے گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ  میں مذکورہ شخص اگر زکوۃ اور نماز کی فرضیت سے انکارنہ کرتا ہو لیکن محض آمدنی میں کمی کے خدشہ کی وجہ سے زکوۃ  دینے اور نماز  پڑھنے سے انکار کرتا ہو تو اس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا ، تاہم  اس طرح کے کلمات کہنا سخت گناہ ہے ،اس لیے آئندہ اس طرح جملے کہنے سے اجتناب کرے۔

 

قال الله تعالى:وَمَآ ءَاتَيۡتُم ‌مِّن ‌رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ.(الروم:30)

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‌ما ‌نقصت ‌صدقة ‌من ‌مال، وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا، وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله.(صحيح مسلم،كتاب البر، ‌‌كتاب البر والصلة والآداب، ‌‌باب استحباب العفو والتواضع،رقم الحديث:2588، ج:8، ص:21، دار الطباعة العامرة تركيا)

وقول الرجل: لاأصلي، يحتمل أربعة أوجه: أحدها: لاأصلي؛ لأني صليت. والثاني: لاأصلي بأمرك، فقد أمرني بها من هو خير منك. والثالث: لاأصلي فسقاً مجانةً، فهذه الثلاثة ليست بكفر.والرابع: لا أصلي؛ إذ ليس يجب علي الصلاة، ولم أؤمر بها، يكفر . ولو أطلق وقال: لاأصلي، لايكفر؛ لاحتمال هذه الوجوه".(الفتاوى الهندية،كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر،ج:2،ص:257)

لا ‌يفتى ‌بتكفير ‌مسلم مهما أمكن حمل كلامه على محمل حسن.(مَجمع الأنهُر في شرح ملتقَى الأبحُر،كتاب السير،باب المرتد،ج:1،ص:688)


فتویٰ نمبر : 5614/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور