بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مستورات کا تبلیغ میں جانا


سوال

کیا مستورات کا تبلیغ جماعت میں اپنے محرم کے ساتھ جانا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دعوت تبلیغ کا مروجہ طریقہ اصلاح  نفس کا ایک بہترین طریقہ ہے ،اصلاح نفس یا امت محمد ﷺ  کی اصلاح کی فکرمندی صرف مردوں کا فریضہ نہیں ،بلکہ مردوں کی طرح عورتیں بھی اس میں پوری طرح شریک ہیں ،چنانچہ  رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ کے محفل میں مردوں کی طرح عورتیں بھی حاضر ہوتیں ،نیز رسول اللہ ﷺ خواتین  کو مستقل وقت دے کر ان کو اللہ  تعالی کے دین  کے احکام سکھاتے ،احادیث    کے ذخیرہ میں متعدد واقعات پائے جاتے ہیں  کہ مستورات نے دربار نبوی ﷺ سے فیض یاب ہوکر دوسری عورتوں کو احکام پہنچا کر ان کی زندگی سنواری۔ حضرت عائشہ کی پوری زندگی اس کے لیے وقف تھی ،حضرت رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں مستورات کے مسائل پوچھنے کے لیے عموما عائشہ رضی اللہ  عنہا  ہی واسطہ ہوتی،اس لیے اس میدان میں آج کل خواتین کی ذمہ داری ہے    کہ  وہ حالات کی نزاکت کا احساس کر کے اللہ تعالی کے مقدس دین کی خدمت کے لیے  اپنی تمام تر توانائیاں شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے بروئے کار لائیں ۔ مستورات کی جماعتوں کی تشکیل میں محارم کی موجودگی ،پر دہ کی رعایت ، باہمی اختلاط سے حد درجہ پرہیز اور ہر ایک صنف  کے لیے الگ الگ  مقامات پر محنت کرنے  کا اہتمام ہو تو شرعا اس کی گنجائش موجود ہے ۔

 

قال اللہ تعالی:وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ ‌وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ.(التوبة:72)

عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ‌لا ‌يحل ‌لامرأة ‌تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها أبوها، أو ابنها، أو زوجها، أو أخوها، أو ذو محرم منها ».(«صحيح مسلم،باب سفر المرأة مع محرم الی حج وغیرہ،ج:4،ص:103، رقم الحدیث،1340)

(‌وتمنع) ‌المرأة ‌الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي... (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة... (قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة.( رد المحتار، على الدر المختار،مطلب في ستر العورة،ج:1،ص:406)

‌فإن ‌أرادت ‌أن ‌تخرج إلى مجلس العلم بغير رضا الزوج ليس لها ذلك فإن وقعت لها نازلة إن سأل الزوج من العالم أو أخبرها بذلك لا يسعها الخروج وإن امتنع من السؤال يسعها من غير رضا الزوج وإن لم تقع لها نازلة لكن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم لتتعلم مسألة من مسائل الوضوء والصلاة فإن كان الزوج يحفظ المسائل ويذكر عندها فله أن يمنعها وإن كان لا يحفظ فالأولى أن يأذن لها أحيانا وإن لم يأذن فلا شيء عليه ولا يسعها الخروج ما لم يقع لها نازلة.(البحر الرائق،باب نفقة الامة المنكوحة،ج:4،ص:212)


فتویٰ نمبر : 5607/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور