بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ہندواور سکھ برادری کی رسومات میں بغرضِ ہمدردی شرکت كرنا


سوال

ہمارے علاقے میں عرصہ دراز سے سکھ وہندو برادری کے لوگ رہتے ہیں،اور وہ ہمارے مسلم برادری کے غم وخوشی میں شرکت کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے مرنے کے آخری رسومات میں ان کی برادری کے ساتھ بغرضِ اظہار ہمدردی کے شرکت کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

انسانی ہمدردی اور اسلامی مروت کی رو سےغیر مسلموں کی تقریب میں شرکت کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اس  میں خلافِ  شرع امور (جیسے شرکیہ افعال،شراب نوشی، گانا بجانا، رقص وسرود اور اجنبی مردوں اور عورتوں کا اختلاط وغیرہ) کا ارتکاب  نہ ہو۔ اور اگر ا ن خلاف شرع  امور کا ارتکاب ہورہاہو  تو ایسی تقریبات میں  مسلمانوں کے لیےشرکت کرنا جائز نہیں چاہے وہ خوشی کے تقریب ہو یا غمی کی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق کوئی مسلمان  ،ہندو یا سکھ برادری کے کسی شخص کے فوت ہونے کی صورت میں اگر بغرضِ ہمدردی  ان کےساتھ تعزیت کرے تواس کی گنجائش ہے۔ لیکن اس کے لیے دعاے مغفرت نہ کرےنیز ان کے مذہبی  رسومات میں چونکہ  خلافِ شرع امور کا ارتکاب ہوتا ہے اس لیے اس میں شرکت سے احتراز لازم ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿ لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين ومن يفعل ذلك فليس من الله في شيء إلا أن تتقوا منهم تقاة ويحذركم الله نفسه وإلى الله المصير (٢٨))﴾(آل عمران:28)

قال الإمام الرازي تحت هذه الآية: واعلم أن كون المؤمن مواليا للكافر يحتمل ثلاثة أوجه أحدها: أن يكون راضيا بكفره ويتولاه لأجله، وهذا ممنوع منه.۔۔۔ و ثانيها: المعاشرة الجميلة في الدنيا بحسب الظاهر، وذلك غير ممنوع منه. والقسم الثالث: وهو كالمتوسط بين القسمين الأولين هو أن موالاة الكفار بمعنى الركون إليهم والمعونة، والمظاهرة، والنصرة إما بسبب القرابة، أو بسبب المحبة مع اعتقاد أن دينه باطل فهذا لا يوجب الكفر إلا أنه منهي عنه، لأن الموالاة بهذا المعنى قد تجره إلى استحسان طريقته والرضا بدينه، وذلك يخرجه عن الإسلام. (مفاتيح الغيب = التفسير الكبير،أبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين التيمي الرازي (م: ٦٠٦هـ)،ج:8، ص:192)

جار يهودي أو مجوسي مات ابن له أو قريب ينبغي أن يعزيه.(ردالمحتار على الدر المختار، کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبرآءوغیرہ،ج:9،ص:557)

والحق حرمة الدّعاء بالمغفرۃ للکافر.(الدّرالمختار شرح تنوير الأبصار،کتاب الصلوۃ،باب صفة الصلوۃ،فصل:وإذا أرادالشّروع،ج:2،ص:236)


فتویٰ نمبر : 5618/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور