بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
کلمات کفر پر ندامت
سوال
میرے سے کلمات کفر صادر ہوئے تھے جب مجھے پتا چلا کہ ان کلمات کے کہنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تو اللہ نے مجھے تو بہ کی توفیق دی الحمدللہ اور میں نے توبہ کر کے تجدید ایمان کیا لیکن میں نے توبہ کرتے ہوئے یہ سوچا تھا کہ اگر میں نے توبہ نہ کی تو اس گناہ کی وجہ سے میں دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلوں گی اور اللہ بھی ناراض ہو گا میرے کسی نیک عمل کا بدلہ مجھے نہیں ملےگا مطلب جیسا میرا اللہ مجھے چاہتا ہے میں ویسی نہیں ہوگاتو کیافائدہ اور یہ خیال دل میں آتے ہی میں نے توبہ کی تو کیا یہ ان کفریہ کلمات پر ندامت کے زمرے میں نہیں آتا؟اگر نہیں آتاتو مجھے بتائے میں ندامت اختیار کیسے کروں ان کلمات کفر پہ کیونکہ ایک کلمہ کفر مجھ سے سبقت لسانی کی وجہ سے صادر ہوا باقی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر ہنسی مذاق میں اور مجھے پتا نہیں کہ ان پہ ندامت کیسے اختیار کروں آپ کو اللہ کا واسطہ میری پریشانی سمجھنے کی کوشش کریں میرے ایمان کا معاملہ ہے میں بہت پریشان ہوں نیز تجدید ایمان کا کیا طریقہ ہے؟ اور اگر اللہ کی رحمت پہ بھروسہ کرتے ہوئے کہ اللہ غفور رحیم ہے توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ندامت سے زیادہ اس کی رحمت پہ بھروسہ کرتے ہوئے توبہ اور تجدید ایمان کروں تو کیا اس سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہونگی خدانخواستہ ؟ رائی کے دانے کے برابر ایمان کتنا ہوتا ہے؟کیا یہ ایمان کی ستر شاخوں میں سے کسی ایک شاخ پہ بھی مطلق ہو جاتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر کوئی ایساکلمہ زبان سے کہہ دیا جس سے کفر لازم آتا ہو اور اس کو یقینی طور پر معلوم بھی ہواس پر تجدید ایمان لازم ہے۔ اگر غلطی سے کوئی کفریہ کلمہ زبان سے نکل جائے (مثلاً کہنا کچھ اور چاہ رہا ہواور زبان سے کفریہ جملہ نکل جائے ) یاشک ہو کہ شاید مجھ سے ایسے کلمات نکل چکے ہوں تو اس کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوتا، لہذا اس صورت میں ایمان اور نکاح کی تجدید لازم نہیں ہوگی البتہ احتیاطاً استغفار کرلینا چاہیے،
صورت مسؤلہ میں اگر سائلہ نے لاعلمی کی وجہ سے کسی کلمہ کفر پر تکلم کیا ہو اور اس کے بعدسچے دل سے اپنے کئے پر ندامت اختیار کرچکی ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو تو اللہ تعالی کی ذات سے قوی امید ہے کہ اس کو معاف کیا ہوگا اس لئے وساوس میں پڑنے کی بجائے اللہ تعالی کی رحمت پر نظر رکھےاس سے ناامید ہر گز نہ ہو اور ندامت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر تہہ دل سے پشیمان اورغمگین ہو۔سائلہ کے سوال سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو سچی ندامت ہے اور اس نے سچی توبہ کی ہے لہذا اس پر مزید پریشان ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت ذکروتلاوت پر توجہ دے۔
عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " قال الله: أنا عند ظن عبدي بي. "(صحيح البخاري،باب قول الله تعالى: {يريدون أن يبدلوا كلام الله} [الفتح: ١٥]،ج:2، ص1117: رقم الحديث: 7550)
والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده ومن تكلم بها خطأ أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، ج:1، ص:687)
فما يكون كفرا بالاتفاق يوجب إحباط العمل كما في المرتد وتلزم إعادة الحج إن كان قد حج ويكون وطؤه حينئذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد الزنا ثم إن أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قاله لأنه بالإتيان بكلمة الشهادة لا يرتفع الكفر وما كان في كونه كفرااختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطا وما كان خطأ من الألفاظ لا يوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك.(ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:1، ص:688)