بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

یو،دوہ،درے تہ خلوصہ ئے(ایک ،دو،تین تم آزاد ہو)کے الفاظ کہنے کا حکم


سوال

اگر کسی شخص نےغصہ میں  اپنی بیوی سے کہا کہ ”یو ،دوا، درے ،تہ خلوصہ ئے“( ایک ،دو، تین تم آزاد ہو) ،ان الفاظ کے ساتھ طلاق کے وقوع کا کیا حکم ہے ؟

جواب

”ایک،دو،تین“محض اعداد ہیں جو اپنے اصل معنی کے اعتبار سے گنتی کے لیے وضع کیے گئے ہیں،اور ان سے کسی بھی چیز کی گنتی مراد لی جاسکتی ہے۔ تاہم کبھی قرینہ ومقام کی وجہ سے محض عدد کےذکر کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے اور معدود کو مخاطب سمجھ جاتا ہے۔اسی وجہ سے اگر مذاکرہ طلاق یا میاں بیوی کے درمیان جھگڑا کے وقت مذکورہ ا عداد کا تلفظ کیا جائے تو اس سے طلاق ہی مراد لی جاتی ہے۔ نیز ”تہ خلوصہ ئے“(تم آزاد ہو) اصل میں کنائی الفاظ ہیں۔ تاہم  پشتو عرف وعادت میں یہ الفاظ بیوی کو طلاق دینے کے لیے ہی استعمال ہوتے ہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق غصہ کی حالت میں  شوہر کےالفاظ ”یو، دوا،درے، تہ  خلوصہ ئے“(ایک ،دو،تین تم آزاد ہو) کہنے سے اس کی بیوی شوہر پر تین طلاقوں کے ساتھ مغلظہ ہوگئی ہے،کیونکہ پشتون معاشرے میں ”تہ خلاصہ ئے“(تم آزاد ہو)کے الفاظ طلاق کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

 

رجل قال لامرأته ترايكى وتراسه أو قال تويكى توسه قال أبوالقاسم الصفار لايقع شيء وقال الصدر الشهيد يقع إذا نوى قال وبه يفتى. قال القاضي وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق وإن لم يكن لا يقع الطلاق إلا بالنية كما قال بالعربية أنت واحدة. (خلاصة الفتاوى، كتاب الطلاق، الفصل الثاني في الكنايات، ج:2، ص:98)

فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي ‌مع ‌أن ‌أصله ‌كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:299)

ومن المتأخرين كانوا يفتون ‌بأن ‌لفظ ‌التسريح ‌بمنزلة الصريح يقع به طلاق رجعي بدون النية. (البحرالرائق، كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج:3، ص:325)

 


فتویٰ نمبر : 6785/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور