بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
چور کوچوری کی تفتیش کے خرچے کا ضامن بنانا
سوال
اہلِ محلہ میں سے ایک شخص نے مسجد کی بیٹری چوری کی اہل محلہ نے اعلان کیا کہ جس شخص نے بیٹری چوری کی ہو وہ واپس لائےورنہ ہم تحقیق کے لیے کتے لائیں گے، لیکن چور نے بیٹری واپس نہ لایا پھر جب اہل ِمحلہ نے کتے والوں کو بلایا تو پھر آدھا گھنٹہ دیا کہ جوبھی چور ہو، وہ ہمیں کسی چپکے طریقہ سے اطلاع کرلے، مگر انہوں نے کچھ اطلاع نہ دی ، جب کتے کو چھوڑا تو وہ اس چور کے گھر داخل ہوا اور وہاں سے بیٹری برآمد ہوئی اور چور نے اقرار بھی کرلیا اب پوچھنا یہ ہے کہ اہل محلہ نے کتے والوں کو چالیس ہزار روپے دئے ہیں ،وہ اس چور سے وصول کئے،تو کیا اس چور سے چالیس ہزار روپے لینا شرعا درست ہے جبکہ بیٹری بھی سلامت واپس کی گئ ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی کا مال چوری کرنا شرعا ناجائز اور حرام ہے اور پھر مساجد سے چوری کرنے انتہائی قبیح اورناجائز کام ہے،شریعتِ مطہرہ کے روسے چوری کاحكم ہاتھ کاٹنا،اور مسروقہ مال کی واپسی ہے،لیکن مسجد سے چوری کرنے والاکا ہاتھ نہیں کاٹا جائےگا،تاہم چور پر مسروقہ مال کے علاوہ مزید کوئی چیز لازم نہیں ہوتی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مسجد سے بیٹری چوری کرنے والےسے بیٹری برآمد ہونے کے بعد اہلِ محلہ کا چوری کی تفتیش پرجوکتے بلانے کا خرچہ ہوا ہے وہ خرچہ اس پرشرعاًلازم نہیں۔
قال لله تعالى: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا﴾(المائدة:38)
الإجماع على حرمة أخذ مال المسلم بغير حق.(البحر الرائق،باب الخلع،ج:4،ص:83)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.(الفتاوي الهندية،فصل في التعزير،ج:2،ص:167)
وأما حكم السرقة فنقول - وبالله التوفيق -للسرقة حكمان:أحدهما: يتعلق بالنفس، والآخر: يتعلق بالمال (أما) الذي يتعلق بالنفس فالقطع لقوله سبحانه وتعالى﴿والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما﴾(المائدة: 38) ؛ولما روينا من الأخبار، وعليه إجماع الأمة...وأما الحكم الذي يتعلق بالمال فهو وجوب الرد إن كان قائما بعينه، ولصاحبه أن يأخذه أينما وجده سواء وجده في يد المحارب، أو في يد من ملكه المحارب ببيع، أو هبة، أو غير ذلك.(بدائع الصنائع،فصل في حكم السرقة،ج:9،ص:335)
وأما مال الوقف فلم أر من صرح به ولا يخفى أنه لا يقطع به لعدم المالك كما صرحوا أنه لو سرق حصر المسجد ونحوها من حرز، فإنه لا يقطع معللين بعدم المالك.(البحر الرائق،كتاب السرقة،ج:5،ص:60)