بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ميت كو دفنانے كے بعد دوسری جگہ منتقل کرنا


سوال

 اولیاء اللہ کے مزار کو انکی وفات سے دس بارہ سال بعد دوسری جگہ منتقل کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ میت کو دفنانے کے بعد کسی اور جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ،اس لئے اس سے احتراز ضروری ہے ،البتہ اگرمیت کو کسی ایسی زمین میں دفن کیا گیا ہو ،جو کسی نے غصب کی ہو یا شفعہ کی بنا پر اس زمین میں کسی کا استحقاق ثابت ہو جائےتو پھر مالک زمین کو اختیار ہے کہ مردہ کو یہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کا حکم دے یا زمین کو ہموار کرکے استعمال میں لائے، لہذا جہاں کہیں ایسی صورتیں پیش آجائے تو میت کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی گنجائش ہے ،اس کے علاوہ جائز نہیں ۔

 

(ولایخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا زيلعي(درالمحتارعلى صدرردالمختار،كتاب الصلوة،ج:2،ص238)

 إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها،فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوّى الأرض.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة،ج:1،ص:167)


فتویٰ نمبر : 5611/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور