بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صحابہ کرام کے متعلق نازیبا الفاظ کہنا


سوال

ایک امام صاحب نے کچھ اس طرح کے الفاظ کہےکہ "اگر صحابی بھی آجائےتو ان کو بھی امامت کے لیے آگے نہیں کروں گا" مذکورہ الفاظ کہنا شریعت کی رو سے کیا حکم رکھتا ہے؟

جواب

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  اجمعین سے عقیدت ومحبت اور ان کا ادب واحترام ہر مسلمان کے لیے لازم اور ضروری ہے اس روئے زمین پر انبیاءکرام کے بعد مقدس ترین جماعت صحابہ کرام ہی کی ہے، جن کی عظمت و فضیلت میں قرآن کی آیات نازل ہوئيں اور آپ ﷺ کے ارشادات وارد ہوئےاس لیےان کے متعلق ہر اس  لفظ کے کہنے سے احتراز کرنا چائیے  جس میں ادنی بے ادبی کا بھی شائبہ ہو ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس نے یہ الفاظ کہے ہوں کہ"اگر صحابی بھی آجائے تو ان کو بھی امامت کے لیے آگے نہیں کروں گا"توان الفاظ کے کہنے پر اُسےتوبہ واستغفار کرنی چایئے اور آئندہ ایسے الفاظ سے بچنا چایئے۔

 

عن عبد الله بن مغفل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الله ‌الله ‌في ‌أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه.(سنن الترمذي،ابواب المناقب،باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،ج:6،ص:179)


فتویٰ نمبر : 5596/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور