بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مدعی كےپاس گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ کی جگہ مدعی سے قسم لینا
سوال
اگر کوئی شخص دوسرے پر دعوی کرے او ر اس کے پاس کوئی گواہ موجود نہ ہو ،اور صلح صفائی کے لیے فریقین جرگہ کا تقرر کریں ،تو ایسی صورت میں کیا جرگہ والے مدعی علیہ کی جگہ مدعی کو قسم دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے دعوی ثابت کرنے کے لیے مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے ،چنانچہ اگر مدعی گواہ پیش نہ کر سکے تو مدعی علیہ کوقسم دی جائی گی۔
صورت مسئولہ کے مطابق مقدمہ میں مدعی کے پاس گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ کی جگہ جر گہ والوں کا مدعی کو قسم کا کہنا اور اس پر فیصلہ کرنا جائز نہیں۔
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: «البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه.( سنن الترمذي،رقم الحديث:1341 ،ج:3،ص:618)
فكان جعل البينة حجة المدعي وجعل اليمين حجة المدعى عليه وضع الشيء في موضعه وهو حد الحكمة.( بدائع الصنائع،ج:6،ص:225)