بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بیوی کا دودھ نگلنا
سوال
اگر شوہر اپنی بیوی کے پستان منہ میں لیکر چوس رہاہو اسی دوران پستان سے دودھ نکلا اور شوہر کے منہ میں چلاگیا اور اس نے تھوک دیا تو اسکا کیا حکم ہے یا جان بوجھ کر اس نے پستان سے دودھ نکا لا اور پی لیا یا غلطی سے حلق سے نیچے اتر گیا تو اسکا کیا حکم ہے کیا بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی؟
جواب
حرمت رضاعت کے ثبوت کےلیے مدت رضاعت میں دودھ پینا ضروری ہے اگر کوئی مدت رضاعت کے بعد کسی عورت کا دودھ پی لے تو اگرچہ یہ حرام ہے ،لیکن اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔
صورت مسئولہ میں خاوند کا عورت کادودھ منہ میں لینا اور پینا حرام ہےتاہم ا س سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
(ولم یبح الإرضاع بعد مدته) لأنه جزء ادمي والإنتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح...مص رجل ثدي زوجته لم تحرم.(ردالحتارعلى الدرالمختار،كتاب النكاح،باب الرضاع،ج:4،ص:397،421)
إذامص الرجل ثدي إمرأته وشرب لبنها لم تحرم عليه امرأته لما قلنا أنه لا رضاع بعد الفصال.(فتاوى قاضي خان،كتاب النكاح ،باب الرضاع،ج:1،ص:250)