بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا


سوال

چند بھائیوں نے مل کر اپنے گھروں کے قریب اپنے لیے  ایک مسجد بنائی تھی  ،اب وہ مسجد گھروں کے درمیان آگئی ہے ،جس کی وجہ  سے لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے، اب  یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسجد کو اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل کریں  تو کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو زمین   مسجد کے لیے وقف ہوکر  اس پر کم ازکم ایک مرتبہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے تو یہ شرعی مسجد کے حکم میں ہوکر قیامت تک مسجد ہی رہے گی،اس کی تبدیلی جائز نہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بھائیوں نے جب ایک مرتبہ زمین کو مسجد کے لیے وقف کردیا ہے اور اس میں باجماعت نماز ادا ہوئی ہے تو  اب اس کو تبدیل کرکے کسی اور جگہ منتقل  کرنا جائز نہیں ۔

 

ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه" لأنه تجرد عن حق العباد وصار خالصا لله، وهذا لأن الأشياء كلها لله تعالى.(الهداية،كتاب الوقف،ج:2،ص:622)

ومن بنى مسجدًا لم يزل ملكه عنه حتّى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصّلاة فيه فإذا صلّى فيه واحدٌ زال ملكه.(كنز الدقائق،كتاب الوقف،ج:1،ص:405)


فتویٰ نمبر : 5588/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور